بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1443ھ 19 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

بہو سسر پر بدکاری الزام لگائے اور شوہر تصدیق بھی کرے تو وہ شوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو جاتی ہے


سوال

میرا ایک بیٹا ہے جوکہ شادی شدہ ہے ،وہ اور اس کی بیوی دونوں میرے نافرمان ہیں ، مجھے عدالت تک لے گئے وہ مجھے دھمکیاں دیتے ہیں کہ آپ اپنی  جائیداد  و مکان سب ہمیں دے دیں اور مجھے قتل کی دھمکیاں  دیتے ہیں  میرے بیٹے کی بیوی نے میرے اوپر الزام لگایا کہ میں نے اس سے بدکاری کی ہے اور پھر یہ مقدمہ عدالت میں گیا لیکن ثابت نہ ہوسکا میرا بیٹا بھی یہی کہتا ہے اور اس کی بات کی تصدیق کرتا ہے ،دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا میرے بیٹے اور اس کی بیوی کو یہ حق ہے کہ وہ میرے اوپر زبردستی کرکے مجھ سے میری جائیداد اور میرا مکان جوکہ میں نے ہی بنایا ہے میری زندگی میں مجھ سے لیں اور میرا بیٹا اور اس کی بیوی کہتی ہے کہ میں نے (نعوذباللہ)بیٹے کی بیوی سے بدکاری کی ہے تو کیا اس صورت میں ان دونوں کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا شرعا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں صاحبِ جائیداد اپنی جائیداد اور تمام مملوکہ اشیاء  پر ہر طرح کے جائز تصرف کرنے  کا اختیار رکھتا ہے، چاہے خود استعمال کرے ، چاہے کسی کو ہبہ کرے۔ نیز صاحبِ جائیداد جب تک زندہ ہے، اس کی اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں شرعاً کوئی حق و حصہ نہیں اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی اولاد کا سائل سے زبردستی اس کا مکان و جائیداد لینا یا اس کا مطالبہ کرنا جائز نہیں اور نہ ہی سائل پر ان کے مطالبہ کو پورا کرنا لازم ہے۔

نیز جب سائل کی بہو نے سائل پر بدکاری کا الزام لگایا اور اس کے شوہر نے اس کی تصدیق بھی کردی تو اب سائل کی بہو اپنے شوہر یعنی سائل کے بیٹے پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی ہے، لہذا سائل کے بیٹے پر لازم ہے کہ اسے طلاق دے کر اس سے علیحدگی اختیار کرے، دونوں کا ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں۔

تبیین الحقائق میں ہے:

ثم اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا.

(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق، 196/4،القاهرة)

الدر المختار میں ہے:

( و ) حرم أيضا بالصهرية ( أصل مزنيته ) أراد بالزنى الوطء الحرام (و) أصل   ( ممسوسته بشهوة ) ... وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة.

(الدر المختار مع رد المحتار،37،33/3، سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144305100598

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں