بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بہو کو زکاۃ دینا


سوال

کیا ساس بہو کو حج کے لیے زکاۃ دے سکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر بہو غریب ہے، نصاب کی مالک نہیں ہے (یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یاساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابررقم یا ضرورت سے زائد سامان نہیں ہے) اور وہ سید، ہاشمی اور عباسی بھی نہیں ہے تو  ساس  اپنے ذاتی مال سے اسے (اپنی بہو) کو  اس کی ضروریا ت  پوری کرنے کے لیے زکاۃ دے سکتی ہے۔  البتہ اگر  بہو  زکاۃ کی مستحق ہو تو اس پر  حج فرض نہیں۔ اگر ساس نے بہو کو  زکاۃ دےدی تو ادا ہو جائےگی،  لیکن کسی مستحق کو  یک مشت اتنی مقدار زکاۃ دینا بہتر نہیں کہ زکاۃ وصول کرنے کے بعد وہ مستحق خود  زکاۃ دینے والا بن جائے؛  لہذا کچھ زکاۃ مستحق بہو کو دینا اور  کچھ دیگر غریبوں کو دینا زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر تھوڑی تھوڑی کرکے زکاۃ دی گئی تو جب بہو خود ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر رقم کی مالک بن جائے گی، اس کے بعد اس کے لیے (مال دار ہوجانے کی وجہ سے) زکاۃ لینا ہی جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200260

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے