بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1443ھ 19 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

بہو کا رات دیر تک فون پر باتیں کرنے کا حکم


سوال

میری بہو رات دیر تک فون پر بات کرتی ہے اور میرے بیٹے کے منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتی،کہتی ہے کہ میری مرضی میں اپنی دوستوں سے بات کرتی ہوں،معلوم نہیں کہ وہ دوست مرد ہیں یا عورت؟معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کا ایسے رات دیر تک موبائل پر بات کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے بیوی کو اپنے شوہر کی حد درجہ اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا ہے،یہاں تک کہ حضور صلی اللہ  علیہ  وسلم نے  ایک موقعہ  پر  یہاں تک ارشاد فرمایا کہ "اگر میں کسی کو  یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی(غیر اللہ)کو سجدہ کرےتو  میں یقیناًعورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔" (مظاہر حق:3/366)،دوسری طرف شریعت نے شوہر کو یہ ترغیب دی ہے وہ اپنے بیوی کے ساتھ حسن ِسلوک کرے اور اس کی جائز خواہشات کو حسب استطاعت پورا کرنے کی کوشش کرےاور جائز کاموں میں اس پر اپنی پابندیاں نہ لگائے،بلکہ جس قدر  ہوسکے جائز کاموں سے اسے نہ روکے۔

مذکورہ تمہید  کی رو سےصورتِ مسئولہ میں اگر رات دیر تک اپنی سہیلیوں سے  بات کرنےمیں شوہر کی حق تلفی ہوتی ہو اور شوہر کو اس پر اعتراض ہوتو سائلہ   کی بہو کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی اطاعت کرے،اور سائلہ   کے بیٹے کو بھی  چاہیے کہ وہ حکمت بصیرت  کے   ساتھ  نرم لہجے میں اپنی بیوی کو  سمجھائے،نیز    سائلہ  کو  بھی  چاہیے کہ گھر کے  ماحول کو  سازگار  بنانے  میں مثبت کردار  ادا کرے۔

سنن ترمذی  میں  ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لو كنت آمرا أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها."

(أبواب الرضاع، باب ما جاء في الزوج علی المرأۃ، ج:3، ص:457، ط:شركة مكتبة و مطبعة مصطفى البابي الحلبي- مصر)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"و عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلّم: المرأة إذا صلّت خمسها و صامت شهرها و أحصنت فرجها و أطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت."

(کتاب النکاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:971، ط:المکتب الإسلامي)

ترجمہ:

"جس عورت نے (اپنی پاکی کے دنوں میں پابندی کے ساتھ)پانچوں وقت کی نماز پڑھی ،رمضان کے(ادا اور قضا)روزے رکھے،اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی(یعنی خواہش اور بری باتوں سے اپنے نفس کو محفوظ رکھا)اور اپنے خاوند کی(ان چیزوں میں)فرمانبرداری کی(جن میں فرمانبرداری کرنا اس کے لیے ضروری ہے)تو(اس عورت کے لیے یہ بشارت ہے کہ)وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔"

(مظاہر حق،ج:3،ص:366،ط:دار الاشاعت)

وفیہ ایضا:

"وعن عائشة رضي الله عنه قالت: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: إن من أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا و ألطفهم بأهله."

(کتاب النکاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:973، ط:المکتب الإسلامي)

ترجمہ:

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مؤمنین میں کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو خوش اخلاق ہواور اپنے اہل و عیال پر بہت مہربان ہو۔"

مظاہر حق،ج:3،ص:370،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں