بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

باہمی رضامندی سے غیر فطری طریقے سے ہم بستری کرنے سے نکاح ٹوٹتا ہے یا نہیں؟


سوال

 ایک شوہر نے جان بوجھ کر اپنی زوجہ کی دبر میں وطی کی اور زوجہ بھی اس عمل پر راضی ہے، کیا اس عمل سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے جب کہ زوج کی بھی رضامندی شامل ہو؟

جواب

مذکورہ فعل پر حدیثِ مبارک میں لعنت اور سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، زوجہ بھی راضی ہے تو وہ بھی گناہ میں شریک ہوگی، اس لیے اگر یہ عمل ہوگیا ہو تو صدقِ دل سے توبہ و استغفار لازم ہے، البتہ اس سے نکاح نہیں ٹوٹے گا چاہے زوجین کی رضامندی سے ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

غیر فطری طریقے سے ہم بستری کرنے کا حکم


فتوی نمبر : 144108201261

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں