بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1443ھ 19 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم


سوال

نکاح بغیرگواہوں اور حق مہر کا ذکر کیے بغیر ہو جاتا ہے اور نہ ہی ولی موجود ہوں  اور اگر ہو جاتا ہے تو لڑکی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے اور اس نکاح میں عدت کا حکم کیا ہے؟

جواب

مسلمانوں کا نکاح  منعقد ہونے کے لیے شرط یہ ہے  کہ دو  عاقل بالغ  مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو۔اگر  گواہوں  کی موجودگی کے بغیر  کسی نے ایجاب و قبول کر لیا تو اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا اور دونوں میاں بیوی نہیں بن جاتے،  بلکہ اجنبی ہی رہتے ہیں۔ باقی عاقل بالغ لڑکے اور لڑکی کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر بھی ہوجاتاہے، اگرچہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شرعًا و اخلاقًا انتہائی ناپسندیدہ ہے۔اسی طرح مہر کا ذکر کیے بغیر بھی نکاح منعقد ہوجاتاہے، لیکن اس صورت میں رخصتی ہوجانے کے بعد مہر مثل لازم ہوتاہے۔

لہذا صور تِ  مسئولہ میں گواہوں کی غیر موجودگی میں نکاح منعقد ہی نہیں ہوا اور لڑکی بغیر عدت کے دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ 

"عن عمران بن حصین، أن النبي صلی اﷲ علیه وسلم قال: لانکاح إلا بولي، وشاهدي عدل".

 (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۱۸/۱۴۲، رقم:۲۹۹، مصنف عبد الرزاق، المجلس العلمي۶/۱۹۵، رقم:۱۰۴۷۳)

"ولاینعقد نکاح المسلمین إلابحضور شاهدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل، و امرأ تین".

(الهداية، کتاب النکاح اشرفیه دیوبند ۲/۳۰۶)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201550

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں