بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بغیر داڑھی والے شخص کی اذان کا حکم


سوال

کیا مؤذن کے لیے داڑھی شرط ہے؟  مجھے ایک مرتبہ داڑھی کے نہ ہونے سے اذان سے منع کیا جاچکا ہے  حال آں کہ میری آواز  خوبصورت اور  اونچی ہے، میں آپ کے ساتھ شیئر بھی کرسکتا ہوں!

جواب

اگر کسی عاقل بالغ مرد کی قدرتی طور پر داڑھی ایک مشت سے کم ہو یا بالکل اُگی ہی نہ ہو اور وہ داڑھی کترواتا یا منڈواتا نہ ہو تو ایسا شخص اذان و اقامت کہہ سکتا ہے بشرطیکہ وہ اذان و اقامت کے الفاظ کی درست ادائیگی اور اوقات کا خیال رکھتا ہو، اور لوگوں کا اسے بغیر کسی شرعی وجہ کے اذان و اقامت سے منع کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ مؤذن مقرر ہو تو اجازت کے بغیر دوسروں کا اذان دینے پر اصرار کرنا انتظامی اعتبار سے درست نہیں ہے ۔ نیز مؤذن ایسے شخص کو بنانا چاہیے جو نیک اور متقی ہو اور اذان کے مسائل اور سنن وغیرہ سے واقف ہو۔

اور اگر کوئی شخص داڑھی منڈواتا ہو یا کتروا کر ایک مشت سے کم کرتا ہو، وہ فاسق اور گناہ گار ہے، اور فاسق کا اذان و اقامت کہنا مکروہِ تحریمی ہے۔ اور لوگوں کا ایسے شخص کو اذان دینے سے منع کرنا شرعاً بالکل درست ہے، البتہ منع کرنے میں نرمی اور حکمت کا برتاؤ اختیار کرنا چاہیے، مثلاً اذان کی فضیلت و اہمیت اور عبادت کے آداب و شرائط اور داڑھی رکھنے کا وجوب اور اہمیت وغیرہ بتا کر اسے قائل کیا جائے تاکہ وہ داڑھی منڈانے کے گناہ سے توبہ تائب ہوجائے۔

نیز  داڑھی والوں کی موجودگی میں فاسق شخص کو اذان و اقامت نہیں کہنا چاہیے، البتہ اگر داڑھی منڈے نے اذان یا اقامت دے دی تو اس کو دوبارہ لوٹانا واجب نہیں۔

داڑھی کی شرعی حیثیت سے متعلق مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کر سکتے ہیں:

ڈاڑھی کی شرعی حیثیت اور ڈاڑھی نہ رکھنے کا گناہ

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج:1، ص:150، ط:دار الكتب العلمية):

’’و منها ـ أي من صفات المؤذن ـ أن يكون تقياً؛ لقول النبي صلى الله عليه وسلم : «الإمام ضامن، و المؤذن مؤتمن» ، و الأمانة لا يؤديها إلا التقي. (ومنها) : أن يكون عالما بالسنة لقوله - صلى الله عليه وسلم -:: «يؤمكم أقرؤكم، و يؤذن لكم خياركم» ، و خيار الناس العلماء.‘‘

الفتاوى الهندية (ج:1، ص:53، ط:دار الفكر):

’’و ینبغي أن یكون المؤذن رجلاً عاقلاً صالحاً تقیاً عالماً بالسنة، کذافي النهایة. ‘‘

و فيه أيضا(ج:1، ص:54):

’’و یکره أذان الفاسق و لا یعاد، هکذافي الذخیرة. ‘‘

فقط و الله اعلم


فتوی نمبر : 144206201305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں