بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بغیر وضو کے نماز پڑھنا اور اس میں گانا گانے کا حکم


سوال

مجھے پوچھنا یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی سستی کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتا ہے، اور صرف گھر والوں کو دیکھانے کے لیے بغیر وضو کےنماز کے ایکشنزیعنی افعال( قیام، رکوع، سجدہ اور جلسہ وغیرہ) کرے، قراءت و تسبیحات نہ پڑھے،بلکہ اس کے بجائے یونیورسٹی کا سبق دہرائے یا نماز میں گانا گائےیا خاموش رہے، تو اس طرح نماز پڑھنے سے بندہ کا فر تو نہیں ہوجاتا ؟ میں نماز کے فرائض کا انکار نہیں کرتی ، بس صرف نماز نہیں پڑھتی تھی، اور جہاں تک مجھے یاد ہے کہ میں نے معافی بھی مانگی تھی، اب میری شادی ہوگئی، اولاد بھی ہے ،تو مجھے وسوسے آرہے ہیں کہ کہی میں نے کفر تو نہیں کیا اور پھر کلمہ بھی نہیں پڑھا، براہ مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ نے مذکورہ افعال (بغیر وضو کے نمازکے ایکشنز کرنا، قراءت کے بجائے یونیورسٹی کا سبق یاد کرنااور گانا گانا) استخفافاً (حقیر سمجھ کر)و استہزاء ً نہیں کیے ہے ، بلکہ سستی کی وجہ سے کیے ،تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہے، اور سائلہ پر لازم ہے کہ اپنے گناہوں پر خوب توبہ و استغفار کرے، البتہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگی، لیکن اگر مذکورہ الفاظ استخفافاً و استہزاءً کیے ہے تو اس کی وجہ سے سائلہ دائرہ اسلام سے خارج(کافرہ) ہو گی ، اس صورت میں سائلہ پر لازم ہو گاکہ اللہ کے حضور خوب توبہ و استغفار کرے اور از سرِ نو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائے، ساتھ ساتھ نکاح کی تجدید دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب، كما في الخانية.

(قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال: المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة لجواز الأخيرتين حالة العذر بخلاف الأولى فإنه لايؤتى بها بحال فيكفر. قال الصدر الشهيد: وبه نأخذ، ذكره في الخلاصة والذخيرة، وبحث فيه في الحلية بوجهين: أحدهما ما أشار إليه الشارح. ثانيهما أن الجواز بعذر لايؤثر في عدم الإكفار بلا عذر؛ لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافراً، وإنما حكمه لزوم الكفر بجحده بلا شبهة دارئة اهـ ملخصاً: أي والاستخفاف في حكم الجحود.

(قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة: وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية: لايكون كفراً، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفراً عند الكل. اهـ.

أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لايكون كفرا عند الكل، تأمل".

(کتاب الطهارة، ج: 1، ص: 81، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدًا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافًا بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به."

(باب المرتد، ج: 4، ص: 222، ط: دار الفكر)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144505101588

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں