بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنے کا حکم


سوال

ٹوپی پہننے کا کیا حکم ہے؟  اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ٹوپی پہنتے تھے، نیز بغیر ٹوپی پہنے نماز پڑھنے سے ثوب میں کمی ہوتی ہے؟

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمومی اَحوال میں عمامہ یا ٹوپی کے ذریعہ سر مبارک کو ڈھانپا کرتے تھے، اس لیے سر پر عمامہ یا ٹوپی پہنناسننِ زوائد میں سے ہے جس کا درجہ مستحب کا ہے، البتہ مستقل طور پرننگے سررہنا شرعاً ناپسندیدہ اور خلافِ ادب ہے، اور ننگے سر رہنے کو معمول اور فیشن بنالینااسلامی تہذیب کے خلاف ہے، اگر کوئی غیروں کی مشابہت میں ننگے سررہتاہے تووہ گناہ گار ہوگا۔

عادتاً  بغیر کسی شرعی عذر کے ٹوپی کے بغیر ننگے سر نماز  پڑھنا مکروہِ  تنزیہی  ہے اور اس  سے ثواب میں کمی ہوتی ہے ، البتہ اگر شرعی عذر ہو یا کبھی بھولے سے بغیر ٹوپی کے نماز پڑھ لی تو اس صورت میں ننگے سر نماز پڑھنے کی وجہ سے نماز میں  کراہت نہیں ہوگی۔

شعب الایمان میں ہے:

"عن ابن عمررضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يلبس قلنسوة بيضاء."

(ج:5، ص:175، ط:دار الکتب العلمیۃ)

اخلاق النبی للاصبھانی میں ہے:

"عن ابن عباس، قال : كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث قلانس: قلنسوة بيضاء مضربة، وقلنسوة برد حبرة، وقلنسوة ذات آذان، يلبسها في السفر، وربما وضعها بين يديه إذا صلى."

(ج:1، ص:125، ط:القاهرة )

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌وصلاته ‌حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل إلا إذا احتاجت لتكوير أو عمل كثير."

(کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ، ج:1، ص:641، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144502102417

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں