بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بغیر میٹر کے سرکاری بجلی کا استعمال ناجائز


سوال

گھروں میں سرکاری بجلی کا بغیر میٹر کے استعمال کرنا کیسا ہے ؟

جواب

بجلی کی چوری بھی چوری ہے؛  لہذا میٹر لگواکر  قانونی طریقہ پر بجلی استعمال کرنے کی سہولت کے باوجود  بغیر میٹر کے گھروں میں سرکاری  بجلی کا استعمال شرعاً ناجائز اور  حرام ہے۔

مولانا محمد یوسف  لدھیانوی  رحمہ اللہ  تحریر فرماتے ہیں:

"سرکاری ادارے پوری قوم کی ملکیت ہیں، اور ان کی چوری بھی اسی طرح جرم ہے جس طرح کہ کسی ایک فرد کی  چوری حرام ہے، بلکہ سرکاری اداروں کی چوری کسی خاص فرد کی چوری سے بھی زیادہ سنگین ہے، کیونکہ ایک فرد سے تو آدمی معاف بھی کراسکتا ہے لیکن آٹھ کروڑ افراد میں سے کس کس آدمی سے معاف کراتا پھرے گا؟ جو لوگ بغیر میٹر کے بجلی کا استعمال کرتے ہیں وہ پوری قوم کے چور ہیں۔"

(آپ کے مسائل اور ان کا حل ، کھانے پینے کے بارے میں شرعی احکام،  ج:8، ص: 393، ط:مکتبہ لدھیانوی)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لايجوز لأحد ‌أن ‌يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقدمة،‌‌ المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص27، ط: نور محمد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144307100672

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں