بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سید کو صدقۂ فطر دے دیا تو کیا حکم ہوگا؟


سوال

صدقہ فطر سید کو دیا ہے بعد میں پتہ چلا کہ سید کو نہیں دیا جاتا،  تو کیا اب دوبار صدقہ فطر ادا کرنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہےکہ جس طرح زکوٰۃ کا مال سید /ہاشمی کو نہیں دیا جا سکتا، صدقۂ فطر کا بھی یہی حکم ہےکہ سید، ہاشمی، عباسی، علوی اور جعفری کو صدقۂ فطر نہیں دیا جاسکتا،صورتِ مسئولہ میں صدقۂ فطر دیتے وقت اگر غور وفکر کیا تھا اور یہ گمان غالب تھاکہ یہ شخص غیر سید اور زکوٰۃ کا مستحق ہے، لیکن دینے کے بعدمعلوم ہوا کہ سید کو دے دیا ہے تو دوبارہ دینےکی ضرورت نہیں، صدقۂ فطر ادا ہوگیا۔

"الدر المختار" میں ہے:

"(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال (إلا في) جواز (الدفع إلى الذمي) وعدم سقوطها بهلاك المال وقد مر"

(کتاب الزکاۃ،باب صدقۃ الفطر،2/ 368، ط: سعید)

وفیہ أیضا:

"(دفع بتحر) لمن يظنه مصرفا (فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمنا أعادها) لما مر (وإن بان غناه أو كونه ذميا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ"

(کتاب الزکاۃ، باب المصرف2/ 353، سعید)

"البحر الرائق"میں ہے:

(قوله: ولو دفع بتحر فبان أنه غني أو هاشمي أو كافر أو أبوه أو ابنه صح ولو عبده أو مكاتبه لا) لحديث البخاري لك ما نويت يا زيد ولك ما أخذت يا معن حين دفعها زيد إلى ولده معن وليس المراد بالتحري الاجتهاد بل غلبة الظن بأنه مصرف بعد الشك في كونه مصرفا وإنما قلنا هذا؛ لأنه لو دفع باجتهاد دون ظن أو بغير اجتهاد أصلا أو بظن أنه بعد الشك ليس بمصرف ثم تبين المانع فإنه لا يجزئه وكذا لو لم يتبين شيء فهو على الفساد حتى يتبين أنه مصرف.....وقيدنا بكونه بعد الشك؛ لأنه لو دفعهاولم يخطر بباله أنه مصرف أم لا فهو على الجواز إلا إذا تبين أنه غير مصرف"

(کتاب الزکاۃ، باب المصرف، 2 / 431،432، ط:دار الکتب العلمیۃ بیروت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144509102007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں