بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بائیں ہاتھ سے قرآن لکھنے کا حکم


سوال

 میری خواہش ہے کہ میں قرآن پاک کو اپنے ہاتھ سے لکھ لوں لیکن مسلہ یہ ہے کہ میں بائیں ہاتھ سے لکھتا ہوں ایسے میں کیا میں بائیں ہاتھ سے قرآن پاک لکھ سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں خیر کے کاموں میں سیدھے ہاتھ کے استعمال پسندیدہ اور محبوب ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے، پینے اور اچھے کاموں میں سیدھے  ہاتھ  کا استعمال کرنا  پسند  فرمایا کرتے تھے،  اس لیے خیر کے کاموں میں بہتر یہ ہی ہے کہ ان کو سیدھے ہاتھ سے انجام دیا جائے،اور لکھنا بھی خیر کے کاموں میں شامل ہے، اس لیے اس میں سیدھے ہاتھ کا استعمال ہی بہتر اور مستحسن ہو گا، البتہ بائیں ہاتھ سے لکھنا شریعت میں جائز ہے ،حرام نہیں ہے،کیوں کہ یہ خلقی اور پیدائشی امور سے متعلق ہے ،اس میں انسان کا اختیار اور عمل دخل نہیں،لہذا   اگر سائل قرآن لکھنا چاہے تو بائیں ہاتھ سے لکھ سکتا ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

"حدثنا ‌عبدان: أخبرنا ‌عبد الله: أخبرنا ‌شعبة، عن ‌أشعث، عن‌أبيه، عن ‌مسروق، عن ‌عائشة رضي الله عنها قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب التيمن ما استطاع في طهوره وتنعله وترجله،» وكان قال بواسط قبل هذا في شأنه كله."

(كتاب الأطعمة، باب التيمن في الأكل وغيره، 321/2،ط: رحمانية)

عمدۃ القاری میں ہے:

"وفي رواية لأبي داود: (كان يحب التيامن ما استطاع في شأنه) ، وفي رواية للبخاري أيضا عن شعبة: (ما استطاع) ، فنبه على المحافظة على ذلك ما لم يمنع مانع."

(كتاب الوضوء،باب التيمن في الوضوء و الغسل،31/3،ط:دارإحىاء التراث العربي)

فتح الباری میں ہے:

"قال النووي في هذه الأحاديث استحباب الأكل والشرب باليمين وكراهة ذلك بالشمال وكذلك كل أخذ وعطاء كما وقع في بعض طرق حديث بن عمر وهذا إذا لم يكن عذر من مرض أو جراحة فإن كان فلا كراهة كذا قال."

(كتاب الأطعمة،باب التسمية علي الطعام والأكل باليمين،522/9،ط:دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504102396

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں