بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیع کی تعریف


سوال

بیع  مع  تعریف اور مثال  کے  ساتھ ذکر کریں!

جواب

لفظ بیع لغت میں باب ضرب سے اس کے معنی ہیں بیچنا فروخت کرنا وغیرہ اور اصطلاح میں اس کے معنی ہیں :ایک مال کا دوسرے مال کے عوض رضامندی کے ساتھ تبادلہ کرنا۔

بیع کے  ارکان  دو طرح کے ہیں:ایک ایجاب اور قبول اور ایجاب او ر قبول کے الفاظ یہ ہیں :مثلا کوئی کہے کہ میں نے یہ چیز اتنے کی بیچی اور دوسرا کہے کہ میں نے اتنے کی خریدی۔

اور دوسرا تعاطی یعنی لینا دینا۔اور بیع تعاطی کے لیے الفاظ کہنا ضروری نہیں ہے ۔اور ایجاب اور قبول یا تعاطی سے بیع منعقد ہوجاتی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي كذا في الكافي وأما ركنه فنوعان أحدهما الإيجاب والقبول والثاني التعاطي وهو الأخذ والإعطاء كذا في محيط السرخسي."

(کتاب البیوع ، الباب الاول فی تعریف البیع و رکنه و شرطه و حکمه و انواعه، ج:۳، ص:۲ ط:دارالفکر)

فتح القدیرمیں ہے:

"قال: (البيع ينعقد بالإيجاب و القبول إذا كانا بلفظي الماضي) مثل أن يقول أحدهما: بعت و الآخر اشتريت."

(کتاب البیوع، ج:٦، ص:۲٤۸، ۲٤۹، ط: دارالفکر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144503102816

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں