بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بیع فاسدکاحکم


سوال

ہمیں مدرسہ میں استعمال کے لیے پانی کی شدید تکلیف تھی  ،جس کی وجہ سے ایک شخص سےمعاہدہ کیا ،کہ ٹریکٹر آپ خریدلیں اورٹینکر مدرسے والے خریدلیں گے ،اسی طرح ضرورت کے مطابق روزانہ پانی فراہم کرےگا،اسی طرح ٹریکٹر کے جملہ اخراجات  مثلا درائیور کی تنخواہ ،ڈیزل اورمرمت وغیرہ سب کچھ اس کے ذمہ لازم ہوں گے ،اورٹینک کی قیمت مدرسے والوں کوقسط واراداکرےگا ،توپھرٹینکر بھی اسی کا ہوجائےگا ،اسی طرح وہ شخص اس دوران مختلف گھروں میں پانی بھی اسی ٹینکر میں فراہم کرتاتھا ،اورلوگوں سے پیسے لیتاتھا،یہ سب کچھ معاہدہ کے تحت کیا گیا تھا ،اب سوال یہ ہےکہ اس شخص کے لیے اس طرح کے پیسےلیناجائزہےیانہیں؟یعنی  کیا سود کے زمرے میں تو نہیں آتا ہے؟۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب مذکورہ تمام  معاملہ   معاہدہ کے تحت ہوگیا،جس میں مدرسہ والوں کی طرف سےقسط وارطریقےسےٹینکرکوفروخت کردیاگیا،اورساتھ یہ بھی اس سےمعاہدہ ہوگیاکہ مذکورہ شخص ضرورت کے مطابق مدرسے کے لیے مفت پانی فراہم کرےگا،توچوں کہ بیع میں اس طرح شرط لگانا  جس  میں  متعاقدین  یامعقود علیہ میں  سے کسی کافائدہ ہو   مفسد عقد  ہوتا ہے ،لہذا مذکورہ  تمام  معاملہ  اسی  شرط  (مدرسے  کے  لیے  مفت  پانی  فراہم  کرنے )   کی  وجہ  سے فاسد ہو گیا  ،لِہذا  یہ ٹینکر ابھی باقی ہے، اورخریدار کے پاس موجود ہے تو عاقدین پر لازم  ہے  کہ  مذکورہ  معاملے  (بیع)  کومنسوخ کرکے   دوبارہ غیر مشروط خریدوفروخت کا معاملہ کردیں،اور اس معاہدہ کے تحت اب تک  مدرسے والوں پر لائے ہوئے پانی کی اجرتِ مثل دینا لازم ہے،یا ٹینکر والے سے خوش دلی کے ساتھ معاف کروایا جائے،اورٹینکرلینے  والے (خریدار )کو چاہیے کہ جتنی کمائی اس نے ٹینکر کے ذریعے  کی ہے اس کو بغیر نیتِ ثواب کے صدقہ کرے ۔

البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"وكل شرط لا يقتضيه العقد ‌وفيه ‌منفعة لأحد المتعاقدين، أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا۔۔۔(منفعة لأحد المتعاقدين) ش: بأن اشترى حنطة على أن يطحنها البائع أو ثوبا على أن يخيطه أو باع عبدا على أن يخدمه البائع شهرا مثلا۔۔۔(يفسده) ش: جواب قوله: وكل شرط لا يقتضيه العقد، أي يفسد العقد ."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:8،ص:181،ط:دارالکتب العلمیہ)

کتاب الاصل لمحمدالشیبانی میں ہے:

"وإذا اشترى الرجل من الرجل بيعا على أن يقرضه قرضا أو يهب له هبة أو على أن يعطيه عطية أو على أن يتصدق عليه صدقة أو على أن يبيعه كذا وكذا بكذا وكذا من الثمن فهذا كله فاسد."

(کتاب البیوع والسلم،باب البیوع اداکان فیہاشرط یفسدہا،ج:5،ص:97،ط:ادارۃ الفرقان)

فتاوی شامی میں ہے:

"وسيأتي أنه معصية ‌يجب ‌رفعها، وسيأتي في باب الربا أن كل عقد فاسد فهو ربا، يعني إذا كان فساده بالشرط الفاسد."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:49،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(و) يجب (على كل واحد منهمافسخه قبل القبض) ويكون امتناعا عنه ابن الملك (أو بعده ما دام) المبيع بحاله جوهرة (في يد المشتري إعداما للفساد) ؛ لأنه معصية فيجب رفعها بحر."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:91،ط:سعید)

العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"(قال: ومن اشترى جارية بيعا فاسدا وتقابضا، فباعها وربح فيها تصدق بالربح، ويطيب للبائع ما ربح في الثمن) ش: البائع هو بائع الجارية م: (والفرق) ش: أي بين الصورتين وهما طيب الربح لبيع الجارية في الثمن، وعدم طيبه لمشتري الجارية م: (أن الجارية مما يتعين فيتعلق العقد بها)۔۔۔ومعنى تعين الجارية، أنه إذا باع جارية معينة ليس له أن يعطي جارية أخرى مكانها، ولما تعلق العقد بها وحصل الربح من هذه الجارية كان الربح، جاء من بدل المملوك ملكا فاسدا، فيمكن الخبث في الربح ويتصدق به م: (فيتمكن الخبث في الربح) ش: والخبث عدم الطيب م: (والدراهم والدنانير لا يتعينان في العقود)۔۔۔فلم يتعلق العقد الثاني بعينها) ش: أي بعين الدراهم التي باع المشتري الجارية بها م: (فلم يتمكن الخبث، فلا يجب التصدق) ش: لأن الربح حصل بالعقد لا بالدراهم."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد،ج:8،ص:209،ط:دارالکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101438

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں