بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بدنظری سے حفاظت


سوال

میں اپنی بھابھی کی طرف مائل ہو رہا ہوں ،میری عمر ۲۷ سال سے زیادہ ہوگئی ہے، میں اس گناہ سے بچنا چاہتا ہوں لیکن دل کرتا ہے کہ ان کو دیکھتا جاؤں، شادی بھی نہیں ہو رہی میری،  جاب بھی کرتا ہوں پھر بھی کوئی حل بتائیں؟

جواب

شریعت مطہرہ نے انسانیت کو جنسی بے راہ روی سے بچانے اور  پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل کے لئے  نکاح کا حلال راستہ متعین فرماتے ہوئے  ایک طرف ایسے افراد کو نکاح کا حکم دیا ہے، جو اپنی بیوی کے  نان و نفقہ ، رہائش  او ر پوشاک کی ذمہ داری  اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں،  دوسری طرف بلوغت کے بعد   نکاح کرانے میں تاخیر کرنے  سے والدین کو  منع کیا ہے،  تاخیر کے نتیجہ میں جنسی تسکین کی خاطر  اگر اولاد کسی گناہ میں  مبتلا ہوگی تو اس کا گناہ اولاد کے ساتھ ساتھ والد کو بھی ہوگا، لہذا صورت  مسئولہ میں سائل اگر اپنی بیوی کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے، تو والدین پر لازم ہے کہ بلا تاخیر اس کا نکاح کردیں۔بھابھی کی طرف میلان سخت خطر ناک ہے، اس سے الگ رہنا ضروری ہے۔

باقی اس ناجائز میلان سے نجات کے لیے یہ آیت:

 "زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ" 

عشاء کی نماز کے بعد گیارہ مرتبہ پڑھ کر سینہ پر دم کریں، ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔

نیز  برابری کا رشتہ ڈھونڈ کر نکاح کرلیجیے، اور اپنی زندگی یکسوئی کے ساتھ شروع کیجیے۔ باجماعت نماز  کی پابندی  کیجیے، کسی اللہ والے کی صحبت اختیار  کیجیے۔

اس کے علاوہ درج ذیل دعائیں مانگیں، امید ہے کہ ان شاء اللہ آپ کا دل اس بیماری سے صاف ہوجائے گا:

1-’’اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُكَ الْهُدىٰ وَالتُّقىٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنیٰ‘‘.

(ترمذی، ابواب الدعوات، جلد:5، صفحہ:522، طبع: مصطفى البابي)

2- ’’اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ، وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبَنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا ‌الْكُفْرَ، ‌وَالْفُسُوقَ، ‌وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ‘‘۔

(الدعوات الکبیر للبیھقی، جلد:1، صفحہ:279، طبع: غراس للنشر والتوزيع - الكويت)

3 - ’’ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ‘‘.

(الادب المفرد لبخاری، صفحہ: 273، طبع: دار الصديق للنشر والتوزيع)

حدیث شریف میں ہے:

'' عن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: " يا علي لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الآخرة.''

(کتاب النکاح، باب النظر الی المخطوبۃ وبیان العورات،الفصل الثانی،ط:المکتب الاسلامی)

ترجمہ:  "حضرت بریدہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ علی! نظر پڑ جانے کے بعد پھر نظر نہ ڈالو (یعنی اگر کسی عورت پر ناگہاں نظر پڑجائے تو پھر اس کے بعد دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھو )؛ کیوں کہ تمہارے لیے پہلی نظر تو جائز ہے ( جب کہ اس میں قصد و ارادہ کو دخل نہ ہو) مگر دوسری نظر جائز نہیں ہے ۔"

صحيح البخاري میں ہے:

"٥٠٦٦ - حدثنا ‌عمر بن حفص بن غياث: حدثنا ‌أبي: حدثنا ‌الأعمش قال: حدثني ‌عمارة، عن ‌عبد الرحمن بن يزيد قال: «دخلت مع علقمة والأسود على عبد الله، فقال عبد الله: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم شبابا لا نجد شيئا، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر الشباب، من استطاع الباءة فليتزوج؛ فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم؛ فإنه له وجاء."

( كتاب النكاح، باب من لم يستطع الباءة فليصم، ٧ / ٣، ط: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)

"ترجمہ: عبدالرحمٰن بن یزید سے مروی ہے کہ: " میں، علقمہ اور اسود (رحمہم اللہ) کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی (بوجہ غربت) طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔"

سنن الترمذی میں ہے:

"١٧١ - حدثنا ‌قتيبة ، قال: حدثنا ‌عبد الله بن وهب ، عن ‌سعيد بن عبد الله الجهني ، عن ‌محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ، عن ‌أبيه ، عن ‌علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: «يا علي،» ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤا".

( أبواب الصلاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، ١ / ٢١٣،ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ: "حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے  ان سے فرمایا:  " اے علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز میں جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ میں جب آجائے، او عورت (کے نکاح میں ) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر)  مل جائے۔"

مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه."

( كتاب النكاح، باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة، الفصل الثالث، ٢ / ٩٣٩، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

"ترجمہ: حضرت ابو سعيد اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروي ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:   جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے، اگر شادی نہیں کی اور اولاد نے کوئی گناہ کرلیا تو باپ اس جرم میں شریک ہوگا اور گناہ گار ہوگا۔"

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"(فإنما إثمه على أبيه) أي: جزاء الإثم عليه لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي - رحمه الله -: أي جزاء الإثم عليه حقيقية ودل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم."

( كتاب النكاح، باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة، ٥ / ٢٠٦٤، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)

لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"زجر وتوبيخ، لا أنه لا إثم على الفاعل، كذا في "التقرير".

( كتاب النكاح، باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة، الفصل الثالث، ٦ / ٤١، ط: دار النوادر، دمشق - سوريا)

شعب الإيمان للبيهقي میں ہے:

"٨٣٠٢  -  حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي، أخبرنا أحمد بن محمد بن عبدوس، حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا أبو بكر بن أبي مريم الغساني، عن أبي المجاشع الأزدي، عن عمر بن الخطاب، عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "مكتوب في التوراة: من بلغت له ابنة اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فركبت إثما، فإثم ذلك عليه".

( الستون من شعب الإيمان "وهو باب في حقوق الأولاد والأهلين"، ١١ / ١٣٨ - ١٣٩، ط: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض)

"ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ :  تورات میں درج ہے کہ جس کی بیٹی بارہ سال کی ہوجائے اور وہ اس کا نکاح نہ کرے، پھر لڑکی سے کوئی گناہ ہوجائے تو باپ بھی گناہ گار ہوگا۔"

فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوی میں ہے:

"٨١٩٩ - (مكتوب في التوراة من بلغت له ابنة اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فأصابت إثما) يعني زنت فإثم ذلك عليه لأنه السبب فيه بتأخير تزويجها المؤدي إلى فسادها. وذكر الاثنتي عشرة سنة لأنها مظنة البلوغ المثير للشهوة."

( حرف الميم، ٦ / ٣، ط: المكتبة التجارية الكبرى - مصر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں