بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بدبودار پانی سے وضو کرنا


سوال

مجبوری کی وجہ سے کیا بدبودار پانی سے وضو کر نا جائز ہے؟

جواب

اگر کسی جگہ پانی میں نجاست ملنے کا یقین نہیں ہے، صرف ہلکی بو ہے جو کسی نالے وغیرہ کے قریب ہونے کی وجہ سے ہے تو اس وجہ سے پانی کو ناپاک نہیں کہاجائے گا، اس پانی سے وضو کرنا درست ہے۔(کفایت المفتی 2/292)

البتہ اگر پانی میں کوئی ناپاک چیز  ملی ہے اور ناپاک چیز کے ملنے کی وجہ سے پانی بدبودار ہوگیا ہے  تو اس صورت میں مذکورہ پانی شرعاً ناپاک شمار ہوگا اور  ایسا پانی استعمال کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا، اگر ایسے پانی سے وضو کرکے نماز ادا کی گئی تو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔

لہذا اگر کسی شخص کو پاک پانی دست یاب نہ ہو اور نماز کے آخری وقت تک تلاش کے باوجود پانی ملنے کی امید نہ ہوتو شرعاً ایسا شخص تیمم کرکے نماز ادا کرسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200488

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے