بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

بدن کے بال کاٹنے کا حکم


سوال

بدن کے بال کا ٹنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مرد وعورت کے لیے اپنی شرم گاہ او ر پاخانے کی جگہ اوران کے ارد گرد کے بال کاٹنا واجب ہے اسی طرح  زیربغل بال  کاٹنابھی ضروری ہیں ، مونچھوں کو اس قدر تراشنا کہ لبوں پر نہ آئیں یہ بھی ضروری ہے،تاہم مونچھیں کاٹنے میں اس قدر مبالغہ کرنا کہ بالکل کٹی ہوئی محسوس ہوں تو یہ صرف بہتر ہے اور بالکل استرے سے صاف کرنابھی جائزہے،لیکن بہتر یہ ہے کہ قینچی کا استعمال کیاجائے۔مذکورہ غیرضروری بال  ہفتے میں ایک بار کاٹنا مستحب ہے،اگر ہر ہفتے نہ کاٹ سکے تو پندرہ دن کے بعد کاٹے ، زیادہ سے زیادہ چالیس دن  تک تاخیر کی جاسکتی ہے اس کے بعد تاخیر کرنا مکروہ تحریمی ہےاوراس سے گناہ  ہو گا۔مرد کے لیے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ، اس سے کم کروانا یا منڈوانا ناجائز وحرام ہے ، سر کے بالوں کو منڈوانا اور سنت کے مطابق چھوڑنا دونوں جائز ہیں مگر بعض بالوں کو کٹوانا او ربعض کو چھوڑنا منع ہے، اس کے علاوہ پیٹھ اور سینے کے بال کا ٹنا بھی جائز ہے مگر خلاف اولیٰ ہے اور سفید بالوں کا نوچنا مکروہ ہے۔عورت کے لیے سر کے بال منڈوانا ناجائز ہے ، اگر عورت کی داڑھی یا مونچھیں نکل آئیں تو ان کا کاٹنا مستحب ہے ۔

صحيح البخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة، رواية: " الفطرة خمس، أو ‌خمس ‌من ‌الفطرة: الختان، والاستحداد، ونتف الإبط، وتقليم الأظفار، وقص الشارب ."

( كتاب اللباس،7/ 160،ط:باب قص الشارب)

صحيح مسلم میں ہے:

"عن أنس بن مالك، قال: - قال أنس - وقت لنا في قص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وحلق العانة، أن لا نترك أكثر ‌من ‌أربعين ‌ليلة."

 (كتاب الطهارة،باب خصال الفطرة،1/ 222،ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الأفضل أن يقلم أظفاره ويحفي شاربه ويحلق عانته وينظف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة فإن لم يفعل ففي كل خمسة عشر يوما ولا يعذر في تركه وراء الأربعين فالأسبوع هو الأفضل والخمسة عشر الأوسط والأربعون الأبعد ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد كذا في القنية......وفي حلق ‌شعر ‌الصدر والظهر ترك الأدب كذا في القنية."

(كتاب الكراهية ،الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها،5/ 357،ط:رشيدية)

مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌خالفوا ‌المشركين: أوفروا اللحى وأحفوا الشوارب."

(كتاب اللباس،باب الترجل،الفصل الأول،2/ 1261،ط:المكتب الإسلامي)

صحيح البخاري میں ہے:

"عن عبد الله، قال: لعن الله ‌الواشمات والموتشمات، والمتنمصات والمتفلجات، للحسن المغيرات خلق الله....."

 (كتاب تفسير القرآن،باب {وما آتاكم الرسول فخذوه} [الحشر: ٧]،6/ 147 ط السلطانية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي اختيار ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام سواء كان شعرها أو شعر غيرها لقوله - صلى الله عليه وسلم - «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والواشرة والمستوشرة والنامصة والمتنمصة» النامصة التي تنتف الشعر من الوجه والمتنمصة التي يفعل بها ذلك....

(قوله والنامصة إلخ) ذكره في الاختيار أيضا وفي المغرب.

النمص: نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اهـ، وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ ومثله في المجتبى تأمل."

 (كتاب الحظر والإباحة،فصل في النظر والمس،6/ 372،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402101294

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں