بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بد نظری دور کرنے کےلیے ماء مستعمل سے غسل کرنا


سوال

کیا عورت دوران ماہواری والدین کے وضو غسل کے پانی سے غسل کر سکتی ہے ؟ عورت کو نظر بد لگی ہوئی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ ماء مستعمل سےنجاست  حکمی (یعنی بے وضو ہونےیا جنبی ہونے کی ناپاکی)  کو  زائل کرناجائز نہیں ، البتہ  ماء مستعمل سے جسم اور کپڑوں کی ظاہری نجاست کو پاک کرنا جائز ہے،  لہذا عورت کا دوران ماہواری والدین کے وضو اورغسل کے پانی سے  غسل کرناجائز ہے۔

اللباب شرح الكتاب  میں ہے:

"(و الماء المستعمل لايجوز استعماله في طهارة الأحداث) قيد بالأحداث للإشارة إلى جواز استعماله في طهارة الأنجاس، كما هو الصحيح."

(اللباب في شرح الكتاب: كتاب الطهارة(ص: 23)،ط. المكتبة العلمية، بيروت )

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ما يطهر به النجس عشرة: (منها) الغسل يجوز تطهير النجاسة بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتها به كالخل وماء الورد ونحوه مما إذا عصر انعصر، كذا في الهداية.....ومن المائعات الماء المستعمل وهذا قول محمد ورواية عن أبي حنيفة، و عليه الفتوى."

(الفتاوى الهندية: كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها ، الفصل الأول في تطهير الأنجاس (1/ 41)،ط. رشيديه)

فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100458

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں