بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بچے کو گھٹی دینے کا حکم


سوال

بچے کو گھٹی دینے کا کیا حکم ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کو گھٹی دینا یعنی تحنیک کرانا مسنون عمل ہے۔

صحيح البخاري میں ہے:

"عن أسماء رضي الله عنها: أنها حملت بعبد الله بن الزبير، قالت: فخرجت وأنا متم فأتيت المدينة فنزلت بقباء فولدته بقباء، ثم أتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فوضعته في حجره، ثم «دعا بتمرة فمضغها، ثم تفل في فيه، فكان أول شيء دخل جوفه ريق رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم حنكه بتمرة ثم دعا له، وبرك عليه وكان أول مولود ولد في الإسلام»".

(صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب هجرة النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة، رقم الحدیث:3909، ج:5، ص:62، ط:دارطوق النجاۃ)

ترجمہ:" حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ وہ اپنے صاحب زادے (عبداللہ بن زبیر) کی پیدائش کے بعد  اسے خود بارگاہِ عالی میں لے کر حاضر ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور چباکر تحنیک فرمائی، انہیں برکت دی، ان کے لیے دعا فرمائی اور ان کے منہ  میں اپنا لعاب ڈالا، خود فرماتی ہیں کہ پہلی چیز جو میرے بچے کے منہ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب تھا، ان کا نام عبداللہ تجویز کیا گیا۔"

شرح النووي على مسلم میں ہے:

"اتفق العلماء على استحباب تحنيك المولود عندولادته بتمر فإن تعذر فما في معناه وقريب منه  من الحلو فيمضغ المحنك التمر حتى تصير مائعة بحيث تبتلع ثم يفتح فم المولود ويضعها فيه ليدخل شيء منها جوفه ويستحب أن يكون المحنك من الصالحين وممن يتبرك به رجلا كان أو امرأة فإن لم يكن حاضرا عند المولود حمل إليه ... وفي هذا الحديث فوائد: منها: تحنيك المولود عند ولادته وهو سنة بالإجماع كما سبق. ومنها: أن يحنكه صالح من رجل أو امرأة. ومنها: التبرك بآثار الصالحين وريقهم وكل شيء منهم. ومنها: كون التحنيك بتمر وهو مستحب، ولو حنك بغيره حصل التحنيك، ولكن التمر أفضل".

(کتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته، ج:14، ص:122، ط:داراحیاء التراث العربی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100886

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں