بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بچوں سے رقم لے کر اسکول سے بورڈ خریدنے کا حکم


سوال

 میں سرکاری سکول میں پڑھاتا ہوں،  ہمارے سکول میں writing board بہت خراب ہے؛  اس لیے ہمیں نئے  writing board کی ضرورت ہے، سکول فنڈ کی  عدمِ دست یابی کی بنا پر  writing board خریدنے  کے لیے ہم ہر بچے سے 30 روپے لیتے ہیں۔  اب حضرت پوچھنا یہ ہے کہ یہ بچے اگر آج نہیں تو کل اس سکول سے چلے جائیں گے اور یہ بورڈ یہاں رہ جائیں گے تو  ایسا کرنا شریعت کے اعتبار سے درست ہےیا غلط؟ اگر غلط ہے تو اس کی کوئی جائز صورت بھی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بچے اگر بالغ ہیں  تو اُنہیں، ورنہ  اُن کے والدین کو بتا دیا جائے کہ ہم اس رقم سے بورڈ خریدیں گے اور یہ بورڈ اسکول کی ملکیت  ہوگاتو ایسی صورت میں  اجازت ہوگی، اور  مذکورہ  رقم بچوں یا ان کے والدین کی طرف سے اسکول کے لیے تبرع شمار ہوگی۔ البتہ اگر اسکول انتظامیہ کی طرف سے بورڈ کی مرمت یا نیا بورڈ لگانے کی ترتیب ممکن ہو تو اسے ترجیح دی جائے۔

الفتاوى الهندية میں ہے:

"و أما حكمها فثبوت الملك للموهوب له."

(کتاب الہبۃ  باب اول ج نمبر  ۴  ص نمبر  ۳۷۴،دار الفکر)

فقط اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200953

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں