بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے نام زیور کردینے سے زکوۃ کا حکم

سوال

اگر کوئی اپنا زیور اپنے بچوں کے نام کر کے بینک میں رکھوادے جبکہ بچے ابھی نابالغ ہوں تو کیا زکوۃ معاف ہوجاتی ہے؟

جواب

اگر بچوں کے نام سے بینک میں زیور رکھنے والا بچے کا ولی ہے یعنی اس کا باپ یا دادا ہے یا بچے کا مربی ہے یعنی بچہ اس کے زیر تربیت اور زیر پرورش ہے تو زیور بچے کی ملکیت ہوچکاہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ ولی یا مربی کے صرف کہہ دینے سے یا صرف اعلان کردینے سے بچہ مالک ہوجاتاہے قبضہ منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ولی کا قبضہ خود اس بچے کا قبضہ سمجھا جا تا ہے اور جب زیور بچہ کا ہوگیا ہے تو اس پر زکاۃ بھی نہیں کیونکہ بچے کے مال پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی۔واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143503200016
تاریخ13-01-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں