بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے نام زیور کردینے سے زکوۃ کا حکم


سوال

اگر کوئی اپنا زیور اپنے بچوں کے نام کر کے بینک میں رکھوادے جبکہ بچے ابھی نابالغ ہوں تو کیا زکوۃ معاف ہوجاتی ہے؟

جواب

اگر بچوں کے نام سے بینک میں زیور رکھنے والا بچے کا ولی ہے یعنی اس کا باپ یا دادا ہے یا بچے کا مربی ہے یعنی بچہ اس کے زیر تربیت اور زیر پرورش ہے تو زیور بچے کی ملکیت ہوچکاہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ ولی یا مربی کے صرف کہہ دینے سے یا صرف اعلان کردینے سے بچہ مالک ہوجاتاہے قبضہ منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ولی کا قبضہ خود اس بچے کا قبضہ سمجھا جا تا ہے اور جب زیور بچہ کا ہوگیا ہے تو اس پر زکاۃ بھی نہیں کیونکہ بچے کے مال پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143503200016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے