بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بچوں کو پولیو پلانے کے حوالے سے شریعت کا کیا حکم ہے؟


سوال

آپ کو معلوم ہے کہ پولیو کا وائرس افغانستان میں موجود ہے، پولیو ویکسین کی حلت اور حرمت کے حوالے سے ہم بہت سے علماء کے ساتھ مسائل کا شکار ہیں، بعض کا کہنا ہے کہ پولیو ویکسین حرام ہے اور بچوں کو نہیں دی جا سکتی،کیوں کہ اس میں  بندر کی کھال کے آثار ہوتے ہیں۔
ہم آپ سے پولیو ویکسین کے بارے میں فتویٰ جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، کیا پولیو ویکسین حلال ہیں یا حرام؟ اگر جائز ہے تو حلال ہونے  کی وجہ کیا ہے؟ کیا بچوں کو ویکسین دینا مستحب  ہے یا واجب؟
 

جواب

پولیو  یا اس جیسی دیگر  بیماریوں کی ویکسینز کے سلسلے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی ماہر دین دار ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کردے کہ یہ مضر صحت نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی حرام یا  ناپاک چیز ملی ہے تو ان کا پلانا جائز ہے، لہذا اس سلسلے میں دین دار ماہر ڈاکٹروں کی تصدیقات کی طرف رجوع کیا جائے، باقی کسی حال میں بھی بیماری کے بغیر بچوں کو ویکسین دینا واجب یا مستحب نہیں۔

   مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کے ترجمان رسالہ ”ماہنامہ بینات“ کے مضمون کا مطالعہ کرلیں:

پولیو کے قطرے ، عوامی تشویش اور سرکاری ذمہ داری!

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144507100449

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں