بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بچوں کوشادی کے موقع پردینے کی نیت سے رکھے ہوئے سونے کی زکوۃ کا حکم


سوال

میرے سوتیلے تین بچے دو لڑکے(18 سال سے زیادہ عمر) اور ایک لڑکی(15 سال) جوکہ میری بیوی کےپہلے شوہر سے ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں ،میری بیوی نے ان تینوں بچوں کیلئے کچھ سونا رکھا ہوا ہے، اس نیت سےکہ ان تینوں بچوں  کی شادی پر ان کو دے دیں گی۔سوال یہ ہےکہ کیا اس سونے پر زکوۃ ادا کرنا ہوگی؟ اور اگر ادا کرنا ہوگی تو کیا اس زکوۃ کی ادائیگی مجھے خود کرنا ہوگی کیونکہ وہ تینوں بچے ابھی برسر روزگار نہیں ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں  بچوں کوشادی کے موقع پر دینے کی نیت سےآپ کی بیوی نےجوسونارکھاہےصرف ان کودینے کی نیت کرنےسے بچے اس سونے کےمالک نہیں ہوئےکیو ں کہ بالغ بچوں کی ملکیت ثابت ہونے کے لیے سونے کو ان کے قبضہ میں دینا ضروری ہے ۔ مذکورہ صورت میں سونا چونکہ بچوں کی ملکیت میں نہیں آیا،بلکہ  بدستوربیوی  ہی کی ملکیت میں رہا  ، اس لئےاگرآپ کی بیوی صاحب نصاب ہےتواس کی زکوۃبھی  اسی پر لازم ہوگی۔پھر خواہ وہ اپنی زکوۃ خوداداکرے یاسائل اس کی جانب سے  اس کی اجازت سے ادا کرے دونوں جائز ہیں۔

فتح القدیر میں ہے:

"وتصح بالایجاب والقبول والقبض) أما الإیجاب و القبول فإنه عقد و العقد ینعقد بالایجاب و القبول و القبض لا بدّ منه لثبوت الملك ... ولنا قوله عليه صلی اللہ علیہ وسلم: لاتجوز الهبة إلا مقبوضة.قال العلامة ابن الهمام:قال صاحب النهاية أي: تصح بالإیجاب وحدہ في حقّ الواهب، و بالإیجاب و القبول في حقّ الموهوب له ... و لکن لایملکه الموهوب له إلا بالقبول و القبض."

(کتاب الهبة، ص/۴۷۹،۴۸۰،۴۸۱ ج/۷ ، ط/رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة (وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لايكون هبةً."

  (كتاب الهبة، ص/689، ج/5، ط/سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومنها الملك التام ‌وهو ‌ما ‌اجتمع ‌فيه ‌الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج".

(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الزکاۃ ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،1/ 172ط : رشیدیۃ )

فتاوی تاتارخانیۃ میں ہے :

"الزكاة واجبة علي الحر العاقل البالغ المسلم اذابلغ نصاباملكاتاماوحال عليه الحول ،الملك التام ان يكون ثابتامن جميع الوجوه ".

(الفتاوي  التاتارخانية ، كتاب الزكاه ،2/ 217 ط: ادارة القرآن )

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز."

(كتاب الزكوة، الباب الاول فى تفسير الزكوة، ج:1، ص:171، ط:مكتبه رشيديه)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولذا لو امر غيره بالدفع عنه جاز."

(کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:270، ط:سعید، وکذا في البحر، ج:2، ص:212، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144409100317

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں