بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بچوں کی تربیت کی خاطر اسقاطِ حمل کا حکم


سوال

میرے ما شاء اللہ پانچ بچے ہیں،  بالترتيب 8سال ،6 سال ، 5سال، 3سال اور 1 سال کا بچہ ہے۔ الحمدللہ  مالی لحاظ سے کوئی بھی تنگی نہیں ہے اور نہ میری زوجہ کو کوئی مرض ہے، سوائے معمولی دمہ کی شکایت کے، جو حمل کے دوران قابو کیا جا سکتا ہے۔ اب میری زوجہ پھر امید سے ہے، اور تقریبًا ڈیڑھ ماہ سے ایام نہیں آئے، اور ٹیسٹ کیا تو مثبت آیا۔ صرف ایک ہی خوف و عذر ہے کہ باقی 5 بچوں کی درست سمت میں تربیت نہ ہو پائے گی، اس لیے اس دفعہ  ٹھہرنے  والے حمل کے ضائع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ شریعت کی رو سے درست راہ نمائی  کی درخواست کی جاتی ہے، اگر تو اس کی گنجائش ہے   اور ہم گناہ گار نہ ٹھہرائے جائیں گے تو  پھر ہم اس کا طبی طریقے سے ابارشن کر لیتے ہیں!

جواب

اگر آپ کے پانچ بچے موجود  ہیں اور مزید اولاد کی وجہ سے  بچوں کی تربیت  و  پرورش  میں سخت حرج  لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو  چارہ ماہ سے پہلے حمل ساقط کرنے  کی گنجائش ہو گی، بشرطیکہ کسی غیر محرم کے سامنے ستر  کھولنا نہ پڑے۔

    فتاوی شامی میں ہے:

"وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.

(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط؛ لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة، كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولاأقول بالحل إذ المحرم لوكسر بيض الصيد ضمنه؛ لأنه أصل الصيد، فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لاتأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح."

(3 / 176، مطلب فی اسقاط الحمل، باب نکاح الرقیق، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201290

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں