بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے معذور پیدا ہونے کی بناء پر حمل نہ ٹھہرنے دینے کا حکم


سوال

 میرے بچے معذور پیدا ہوتے ہیں، اور 4 ، 5 مہینے کے بعد وفات پا جاتے ہیں، چوں کہ بچے کو بھی بہت تکلیف ہوتی ہے، اور بچے کی ماں اور دوسرے گھر والے بچے کی تکلیف کی وجہ سے بہت کرب میں ہوتے ہیں، بہت علاج کیا، اب ڈاکٹرز نے جواب دے دیا ہے، تو اب ہم حمل کرنے سے کتراتے ہیں اور 2 سال سے وقفہ کیا ہوا ہے، تو اس بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ کیا اس عمل سے ہم پہ گناہ ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ بلاعذر ضبطِ تولید اسلام میں منع ہے، اور عذر میں بھی کوئی ایسی صورت اپنانا قطعاً حرام ہے کہ جس سے قوتِ تولید بالکلیہ ختم ہوجائے،  مثلاً رحم (بچہ دانی) نکال دینا یا حتمی نس بندی کرادینا وغیرہ۔ نیز طویل عرصے کے لیے پیدائش کا سلسلہ روکنے کے ذرائع اختیار کرنا بھی شرعاً درست نہیں ۔
ہاں کسی واقعی عذر، بیماری، شدید کم زوری یا بچے کو خطرہ جیسی صورتوں میں ضرورت کی وجہ سے  ایسی  جائز مانعِ  حمل تدبیروں کو اپنانے کی گنجائش ہے جو وقتی ہوں، اور جب چاہیں اُنہیں ترک کرکے توالد وتناسل کا سلسلہ جاری کیا جاسکتا ہو، ایسی تدبیریں عزل کے حکم میں ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عذر کی وجہ سے وقتی طور پر وقفہ کرنے (کہ ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کرے کہ  جس سےحمل ہی نہ ٹھہرے) کی تو گنجائش ہوگی، لیکن مستقل طور پر وقفہ کرکے بچے جننے کی صلاحیت کو ختم کرنا جائز نہیں ۔

عمدۃ القاری میں ہے:

"فإن ‌الاختصاء ‌في ‌الآدمي حرام مطلقا."

(كتاب النكاح، باب ما يكره من التبتل والخصاء، ج: 20، ص: 72، ط: دار إحياء التراث العربي)

الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:

"وبناء عليه ‌يجوز ‌استعمال ‌موانع ‌الحمل ‌الحديثة كالحبوب وغيرها لفترة مؤقتة، دون أن يترتب عليه استئصال إمكان الحمل، وصلاحية الإنجاب، قال الزركشي: يجوز استعمال الدواء لمنع الحبل في وقت دون وقت كالعزل، ولايجوز التداوي لمنع الحبل بالكلية. أو ربط عروق المبايض إذا ترتب عليه امتناع الحمل في المستقبل، والعبرة في ذلك لغلبة الظن."

(‌‌القسم الأول: العبادات، ‌‌الباب السابع: الحظر والإباحة، ‌‌المبحث الرابع، ج: 4، ص: 2645،2644، ط: دار الفكر - سوريَّة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌العزل ‌ليس ‌بمكروه برضا امرأته الحرة."

(كتاب النكاح، الباب التاسع في نكاح الرقيق، ج: 1، ص: 335، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويعزل عن الحرة)... (بإذنها).

[تنبيه] ‌أخذ ‌في ‌النهر ‌من ‌هذا ومما قدمه الشارح عن الخانية والكمال أنه يجوز لها سد فم رحمها كما تفعله النساء مخالفا لما بحثه في البحر من أنه ينبغي أن يكون حراما بغير إذن الزوج قياسا على عزله بغير إذنها."

(‌‌كتاب النكاح، ‌‌باب نكاح الرقيق، ج: 3، ص: 176،175، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507102278

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں