بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے نان نفقے حکم


سوال

کیافرماتےہیں علماء دین اسلام اس مسئلہ میں کہ :

میاں بیوی کے درمیان عدالت میں تنسیخ نکاح ہوکربچے (لڑکے، لڑکیاں ) نابالغان ماں کوحوالے کیے گئے اورساتھ عدالت نے باپ پر نان ونفقہ پانچ ہزارروپےماہانہ فی کس لگایاہے، اب سوال یہ ہےکہ مذکورہ صورت میں باپ اپنے بچے (لڑکےنابالغ )کےلیےکتنی عمرتک نان نفقہ کاشرعاً پابندہوگا؟نیز باپ اپنی بیٹی کےلیے کتنی عمرتک نان نفقہ کاشرعًا پابندہوگا؟حوالہ جا ت دے کر ممنون فرمائیں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں نابالغ بچوں کے نفقہ کی ذمہ داری والد پرلازم ہے، اور  لڑکا کمانے کے قابل نہ ہواورلڑکی کی شادی نہ ہوجائے اس وقت تک والد کی حیثیت اوربچوں کی ضرورت کے مطابق ان کے نان نفقہ کی ذمہ داری شرعاً والد پرلازم ہے۔

            فتاوی ہندیہ میں ہے:

"نفقة الأولاد الصغار على الأب لايشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة ...و نفقة الإناث واجبة مطلقًا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة . و لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزًا عن الكسب لزمانة، أو مرض."

(الفتاوى الهندية، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفة الأولاد۱/ ۵۶۳،۵۶۰ ط:رشیدیہ)

و فيه أيضاً:

"الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب و لم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا أو يؤاجرهم و ينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، و أما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل أو خدمة، كذا في الخلاصة".

(الفتاوى الهندية، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفة الأولاد۱/ ۵۶۲ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100904

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں