بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

بچی کے اخراجات والد کے ذمے ہیں، دادا سے مطالبہ درست نہیں


سوال

ایک شخص اپنے والد سے ان کی زندگی ہی میں اپنے حصہ کے بقدر جائیداد لے کر الگ ہوگیا تھا،اس کے بعد مذکورہ شخص اپنے سسرال کے ہاں رہائش پذیر ہوا،چند مہینے بعد سسرال والوں سے ناچاقی کی بناء پر وہاں سے فرار ہوگیا،اس وقت وہ شخص سسرال والوں کے ہاں ہی ہے، اس کی ایک بیٹی بھی ہے، سسرال والے اس بچی کی تربیت پر خرچ شدہ اخراجات کا مطالبہ بچی کےدادا سے کررہے ہیں؛ تاکہ داد ا کو تکلیف ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ : مذکورہ شخص کے سسرال والوں کا بچی کے دادا سے ان  کی تربیت پر خرچ شدہ اخراجات کا مطالبہ کرنا جائز ہے یانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ شخص خود موجود ہے؛اسی لیے مذکورہ شخص کی بیٹی کے اخراجات اس کےذمہ لازم ہے،بچی کے دادا سے اس کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔

فتح القدير للكمال ابن الهماممیں ہے:

"فصل:قوله ’’ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد‘‘ قيد بالصغر فخرج البالغ وليس هذا على الإطلاق بل الأب إما غني أو فقير، والأولاد إما صغار أو كبار،فالأقسام أربعة:الأول أن يكون الأب غنيا والأولاد كبارا، فإما إناث أو ذكور، ‌فالإناث ‌عليه ‌نفقتهن إلى أن يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، وليس له أن يؤاجرهن في عمل ولا خدمة وإن كان لهن قدرة۔۔۔۔۔۔۔۔الثاني أن يكون الأب غنيا وهم صغار، فإما أن يكون لهم مال أو لا، فإن لم يكن فعليه نفقتهم إلى أن يبلغ الذكر حد الكسب وإن لم يبلغ الحلم، فإذا كان هذا كان للأب أن يؤاجره وينفق عليه من أجرته وليس له في الأنثى ذلك."

(باب النفقة،فصل ونفقة الأولاد الصغار على الأب،ج:4،ص:378، ط:دار الفكر، لبنان)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و نفقة الإناث واجبة مطلقًا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة."

(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد،ج:1،ص:562، ط: دار الفكر)

فتاویٰ خانیہ میں ہے:

"صغیر مات أبوہ، وله أم وجد (أب الأب) کانت نفقته علیهما أثلاثا : ثلث علی الأم والثلثان علی الجد."

(باب النفقة،ج:1،ص:449،ط:مکتبة حقانية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قوله: ’’والنفقة لا تصير دينا إلخ‘‘ أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة."

(باب النفقة،مطلب لا تصير النفقة دينا إلا بالقضاء أو الرضا،ج:3،ص:594،ط:سعید)

وفیه ایضاً:

"قضى بنفقة غير الزوجة زاد الزيلعي: والصغير ومضت مدة أي شهر فأكثر سقطت ؛ لحصول الاستغناء فيما مضى، .....

قوله: ’’زاد الزيلعي: والصغير‘‘ يعني استثناه أيضاً فلاتسقط نفقته المقتضى بها بمضي المدة كالزوجة، بخلاف سائر الأقارب."

(باب النفقة،مطلب لا تصير النفقة دينا إلا بالقضاء أو الرضا،ج:3،ص:633،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100862

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں