بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بچی کا زیور استعمال کرنا


سوال

سونے کا زیور اپنی نا بالغ اولاد کے نام کرنے کے بعد کیا ماں اس زیور کو خود پہننے کے لیے استعمال کر سکتی ہے؟ اور کیا ضرورت پڑنے پر اس زیور کو والدین بیچ سکتے ہیں یا اولاد بالغ ہو کر اجازت دے تو پھر بیچ سکتے ہیں؟ یا نا بالغ اولاد کی کوئی ضرورت پوری کرنے کے لیے ان کے بالغ ہونے سے پہلے ان کی اجازت کے بغیر بیچ سکتے ہیں؟ 

جواب

مذکورہ صورت میں والدہ   اس زیور کو خود استعمال نہیں کرسکتی، نیز والدین اپنی ضرورت کے لیے اسے بیچ بھی نہیں سکتے۔  ہاں! والدین بچوں کی کسی ضرورت  کے لیے ان کی اجازت کے بغیر یا بلوغت کے بعد ان کی اجازت سے بیچ سکتے ہیں۔

"و لایجوز أن یهب شیئًا من مال طفله و لو بعوض."

(الدر المختار علی هامش رد المحتار ٤/٧٠٧)

فتاوی  محمودیہ میں اسی طرح  کے سوال کے جواب  میں مذکور  ہے:

"جب نالغ بچے کو پیسہ دیے جائیں اور وہ  کوئی چیز بازار سے خرید کر لایا تو ماں باب بھائی بہن کو اس سے محض اپنی خواہش پر لے کر کھانا نہیں   چاہیے،  البتہ اس کی تربیت کی نیت سے اس کی عادت ہو جائے کہ وہ تنہا نہ  کھائے، بلکہ سب کو کھلایا بھی کرے،  اس کو نصیحت کرنی  چاہیے کہ وہ سب کو تقسیم کرکے خود بھی کھائے، پھر جتنی مقدار اس نے جس کو دی ہے دوسرے وقت اندازے سے وہ بھی اس کو دے دیا اور کھلا دیا کرے، اس طرح نابالغ کے مال میں تصرف کا اشکال بھی نہیں رہے گا اور اس کی تربیت بھی اچھی ہوگی۔"

(فتاوی محمودیہ ١٨/١٤٠)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201330

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں