بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام نائلہ اور امارہ رکھنے کا حکم اور اس کا معنی


سوال

بچی کا نام نائلہ اور امّارہ  کیسا ہے اور اس کا معنی کیا ہے ؟

جواب

''نائلہ'' کا معنی ہے: "حاصل کرنے والی"، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کا نام  نائلہ تھا، لہٰذا نائلہ نام رکھنا درست ہے، اور "اَمَّارہ" کا معنی ہے:  "حکم کرنے والی"، بچی کانام امارہ رکھنا جائز ہے۔ لیکن بہتریہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ عہن یا نیک خواتین  میں سے کسی کا نام رکھاجائے۔

تفسیرِ بغوی میں ہے:

"فإن عثمان رضي الله عنه تزوج ‌نائلة بنت فرافصة، وكانت نصرانية فأسلمت تحته."

(سورۃ البقرۃ،ج:1،ص:195،ط:تالیفات اشرفیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144312100529

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں