بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بچہ کی تربیت کی نذر


سوال

ایک عورت  نے کہاہے  کہ جب میرا کوئی  بچہ پیدا ہوجائے گا تو  یہ میں کسی کو  دوں گی؛ کیوں کہ  میں اس کی  پرورش نہیں کرسکتی،  لیکن  اب   وہ  اپنی اس بات پر  نادم ہے تو  برائے مہربانی اس کا کوئی شرعی حل بتادیجیے!

جواب

صورتِ مسئولہ  میں عورت  کا یہ کہنا کہ میرا کوئی  بچہ  پیدا  ہوجائے  گا  تو  میں یہ کسی کو دوں  گی ؛ تاکہ وہ اس کی تربیت کرے؛ کیوں کہ میں اس کی پرورش نہیں کرسکتی۔ اس  کی  وجہ  سے کسی کے  حوالے کرنا لازم نہیں ہے، یہ نذر شرعًا معتبر نہیں ہے؛  لہذا اس ماں کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،  اس کو چاہیے کہ اپنے اعتبار سے ہی اس بچے کی  اچھی سے اچھی تربیت کرے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200323

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں