بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بچہ کی طرف سے قربانی کرنے کی صورت میں قربانی سے پہلے اس کے بال اور ناخن کاٹنا


سوال

اگر کوئی اپنے بچے کے نام کی قربانی دینا چاہتا ہو  اور بچہ   2یا 3 سال کا ہو تو بچے کے بال ناخن کاٹنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کرنے والے کے لیے  ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب ہے، یہ حکم فرض یا واجب نہیں ہے، نیز  چھوٹا بچہ احکامات کا مکلف بھی نہیں ہوتا، لہذا  صورتِ  مسئولہ میں  بچے  کی طرف سے  اگرچہ قربانی کی جارہی ہو تب بھی اس کے بال اور ناخن کاٹنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں