بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 شعبان 1444ھ 22 مارچ 2023 ء

دارالافتاء

 

بچے کی پیدائش کے بعد اقامت کے دوران اگر کوئی قد قامت الصلوۃ بھول جائے ،تو کیا حکم ہے؟


سوال

بچے کی پیدائش کے بعد اقامت کے دوران اگر کوئی قد قامت الصلوۃ بھول جائے ،تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر اقامت کے دوران کچھ کلمات رہ جائیں تو اقامت  کہنے والے کو چاہیے کہ چھوٹے ہوئے کلمات دہراتے ہوئے اس کے بعد کے کلمات دہرادے، مثلا " قد قامت الصلوة" کہنا بھول گیا تو مذکورہ  کلمات دہراتے ہوئے  "اللہ اکبر ،اللہ اکبر ،لا الہ الّا اللہ"بھی کہے، تاہم اگر مذکورہ کلمات کو دہرایا نہیں، تو محض مذکورہ کلمات کے رہ جانےسے اقامت ہوجائے گی،دوبارہ کہنا ضروری نہیں۔

صورتِ مسئولہ بچے کی پیدائش کے موقع پر اقامت کے دوران قد قامت الصلوۃ بھول گیا ،تو اقامت ہوگئی ،اب دوبارہ کہنا لازمی نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(والإقامة كالأذان) فيما مر (لكن هي) أي الإقامة وكذا الإمامة (أفضل منه) فتح (ولا يضع) المقيم (أصبعيه في أذنيه) لأنها أخفض (ويحدر) بضم الدال: أي يسرع فيها، فلو ترسل لم يعدها في الأصح ۔

(قوله: لم يعدها في الأصح) بخلاف ما لو حدر في الأذان حيث تندب إعادته كما مر، لأن تكرار الأذان مشروع أي كما في يوم الجمعة، بخلاف الإقامة. وعليه فما في الخانية من أنه يعيد الإقامة مبني على خلاف الأصح وتمامه في النهر."

(كتاب الصلوة، باب الأذان ، ج: 1، ص: 389، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں  هے:

"ويرتب بين كلمات الأذان والإقامة كما شرع. كذا في محيط السرخسي.

وإذا قدم في أذانه أو في إقامته بعض الكلمات على بعض نحو أن يقول: أشهد أن محمدا رسول الله قبل قوله: أشهد أن لا إله إلا الله فالأفضل في هذا أن ما سبق على أوانه لا يعتد به حتى يعيده في أوانه وموضعه وإن مضى على ذلك جازت صلاته كذا في المحيط."

(کتاب الصلوۃ، باب الأذان، الفصل الثاني في كلمات الأذان والإقامة وكيفيتهما، ج: 1، ص: 56، ط: مکتبة رشیدیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408101532

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں