بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بچہ کی پیدائش کے لیے مصنوعی تولید کا طریقہ اختیار کرنا


سوال

 آج کل انسانوں میں مصنوعی نسل کشی کے ذریعے اولاد کا حصول کیا جاتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

جس طرح نکاح کے بغیر مرد اور عورت کا جنسی تعلق حرام ہے، اسی طرح شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد کے نطفے سے عورت کے رحم میں مصنوعی طریقے سے  حمل ٹھہرانا بھی حرام ہے، اس لیے کہ مرد کا نطفہ اپنی بیوی یا باندی کے علاوہ کہیں اور استعمال کرنا ناجائز اور حرام ہے، نیز اسپرم  (مادہ منویہ) کی خرید و فروخت  بھی شرعاً باطل ہے، اس کی خرید و فروخت کرنا یا بغیر عوض کے لینا دینا ہر صورت میں ناجائز اور حرام ہے۔

حدیثِ مبارک میں  ہے کہ: شرک کرنے کے بعد اللہ کے نزدیک کوئی گناہ اس نطفہ سے بڑا نہیں جس کو آدمی اُس شرم گاہ میں رکھتا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔

(کنز العمال (5/ 314، رقم الحدیث 12994۔ الباب  الثانی فی انواع الحدود ، ط: موسسہ الرسالۃ)

نیز اس صورت میں بیوی کے رحم میں نطفہ رکھنے اور دیگر مراحل میں عموماً اجنبی کے سامنے ستر کھولنے کا بھی گناہ ہوگا۔ اس لیے شرعاً مذکورہ عمل کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کے فتاوی ملاحظہ فرمائیں:

اجنبیہ کے ذریعہ سے بچہ کی پیدائش

اسپرم بینک کا قیام اور مادہ منویہ فروخت کرنا

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200152

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں