بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رمضان 1442ھ 22 اپریل 2021 ء

دارالافتاء

 

بچے کی پیدائش پر اذان کہنا


سوال

بچہ یا بچی کی پیدائش پر دائیں کان میں آذان دینا اور بائیں کان میں اقامت دینا کس مستند حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

نومولود بچے کے اذاان کے بارے میں احادیث کی کتابوں  کئی احادیث  وارد  ہیں  ترمذی شریف میں ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے کان میں  اذان کہی اور اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے اسی طرح مسند ابو یعلی موصلی  ،سبنن ابو داود  وغیرہ میں بھی روایت موجود ہے 

\r\n

سنن الترمذی(97/4):

\r\n

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ 

\r\n

 

\r\n

حضرت عبید اللہ بن ابورافع اپنے والد (ابورافع) رضی اللہ عنہما سے روایت  کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں  کہ میں نے دیکھا رسول اللہ  صلیٰ اللہ علیہ  وسلم کو کہ انہوں  حضرت حسن بن علی رضی اللہ  عنہما کے کان میں نماز جیسی اذان کہی ، جب حضرت فاطمہ رضی  اللہ  عنہا نے اُن کو جنم دیا۔

\r\n

 مسند ابو یعلی موصلی (150/12)

\r\n

 عَنْ حُسَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى لَمْ تَضُرَّهُ أُمُّ الصِّبْيَانِ» 

\r\n

حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے ہاں بچے کی ولادت ہو وہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے، تو بچے کو اُم صبیان (بچوں کی مرگی) نقصان نہ پہنچا سکے گی۔

\r\n

سنن ابو داود (328/4):

\r\n

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ»فقط واللہ اعلم ۔

\r\n

 

\r\n

 


فتوی نمبر : 144205200975

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں