بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

بچے کا نام ابیان رکھنا


سوال

میں نے اپنے بیٹے کا نام ابیان رکھا ہے، کیا یہ نام صحیح ہے؟

جواب

’’اَبیان‘‘ ہمزہ کے زبر اور باء کے سکون کے ساتھ لفظ ’’بَیِّن‘‘ کی جمع ہے،  اس کے معنیٰ ہیں: فصیح البیان: یعنی خوش کلام یا خوش بیان، لہذا بچے کا یہ نام رکھنا  درست ہے۔

لسان العرب  میں ہے:

"والبين من الرجال: الفصيح. ابن شميل: البين من الرجال السمح اللسان الفصيح الظريف العالي الكلام القليل الرتج. وفلان أبين من فلان أي أفصح منه وأوضح كلاما. ورجل بين: فصيح، والجمع أبيناء، صحت الياء لسكون ما قبلها؛ وأنشد شمر:"  قد ينطق الشعر الغبي، ويلتئي ... على البين السفاك، وهو خطيب".  قوله يلتئي أي يبطئ، من اللأي وهو الإبطاء. وحكى اللحياني في جمعه أبيان وبيناء، فأما أبيان فكميت وأموات، قال سيبويه: شبهوا فيعلا بفاعل حين قالوا شاهد وأشهاد، قال: ومثله، يعني ميتا وأمواتا، قيل وأقيال وكيس وأكياس."

(13 / 68 ، حرف النون، فصل البا ء الموحدة، ط: دار صادر بيروت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144403101460

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں