بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بچے کے پیشاب کا حکم


سوال

کیا بچے کا پیشاب بھی بڑوں کی طرح نجس ہے؟ اور اس کی وجہ سے کپڑوں کو دھونا چاہیے اس کو تین مرتبہ دھونا ضروری ہے یا اچھی طرح ایک مرتبہ دھونا کافی ہے؟

جواب

شیر خوار بچہ/ بچی کا پیشاب اسی طرح نجس ہے جس طرح بڑوں کا پیشاب نجس ہے،  اگر کسی کپڑے وغیرہ پر لگ جائے، تو اسے پاک کرنا شرعًا ضروری ہے، کپڑا ناپاک ہوا ہو تو اسے تین مرتبہ اس طور پر دھونا ضروری ہوگا کہ ہر مرتبہ دھونے میں نیا پانی لیا جائے، اور ہر مرتبہ اچھی طرح نچوڑا جائے۔

معارف السنن میں ہے:

"اتفق المذاهب الأربعة علی أن بول الصبي نجس." ( ١ / ٢٦٨) 

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

"قوله: "وبول ما لايؤكل لحمه" شمل بول الحية فإنه مغلظ كخرئها كما في الحموي على الأشباه وقالوا: مرارة كل شيء كبوله وبول الخفاش وخرؤه لا يفسد لتعذر الاحتراز عنه كما في الخانية قوله: "ولو رضيعا" لم يطعم سواء كان ذكرا أو أنثى وفصل الإمام الشافعي رضي الله عنه فقال: يجزىء الرش في بول الذكر ولا بد في بول الأنثى من الغسل."

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس والطهارة عنها، ص: ١٥٤، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

ملتقى الأبحر میں ہے:

"والبول ولو من صغير لم يأكل وكل ما يخرج من بدن الآدمي موجبا للتطهير."

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ص: ٩٣، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد والقيء إذا ملأ الفم، كذا في البحر الرائق.وكذا دم الحيض والنفاس والاستحاضة هكذا في السراج الوهاج وكذلك بول الصغير والصغيرة أكلا أو لا، كذا في الاختيار شرح المختار."

(كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثاني في الأعيان النجسة، ١ / ٤٦، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں