بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بچوں میں وقفہ کے غرض سے بچہ دانی میں جال لگوانے کی وجہ سے حیض کی عادت بدل جانے کا حکم


سوال

 عورتیں آج کل بچوں کی روک تھام کے  لیے بچہ  دانی میں ایک جال سا  لگواتی ہیں اور اس کی وجہ سے حیض کی مدت میں کمی بیشی ہوتی ہے، پہلے  مدت 6 دن ہوتی تھی اور اب مدت کبھی دس دن اور کبھی سات دن اورکبھی گیارہ دن ہوتی ہے، اب اس مسئلہ کا حل کیا ہے ؟ جب کہ عادت سابقہ 6 دن تھی، اب حیض کتنے دن شمار ہوگا؟

جواب

بلاعذر ضبطِ تولید اسلام میں منع ہے، اور عذر میں بھی کوئی ایسی صورت اپنانا قطعاً حرام ہے جس سے قوتِ تولید بالکلیہ ختم ہوجائے،  مثلاً رحم (بچہ دانی)  نکال دینا یا حتمی نس بندی کرادینا وغیرہ۔ نیز طویل عرصے کے لیے پیدائش کا سلسلہ روکنے کے ذرائع اختیار کرنا بھی درست نہیں ہے۔

ہاں،  کسی واقعی عذر، بیماری، شدید کم زوری یا دوسرے بچے کو خطرہ جیسی صورتوں میں بضرورت ایسی مانعِ  حمل تدبیروں کو اپنانے کی گنجائش ہے جو وقتی ہوں، اور جب چاہیں اُنہیں ترک کرکے توالد وتناسل کا سلسلہ جاری کیا جاسکتا ہو، ایسی تدبیریں عزل کے حکم میں ہیں،  چنانچہ بچہ دانی میں جال یا رِنگ وغیرہ لگاکر وقتی و عارضی طور پر بچوں میں وقفہ کرنے  کا حکم بھی  یہی ہے کہ اگر یہ عمل کسی واقعی عذر  (مثلًا بیماری،  شدید کم زوری یا دوسرے بچے کو خطرہ ہونے وغیرہ جیسی وجوہات)  کی وجہ سے کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے،  ورنہ ناجائز ہے۔

بچہ دانی میں جال وغیرہ لگانے سے حیض کے خون آنے کی مدت میں تبدیلی ہوجانے کا حکم بیان کرنے سے پہلے یہ جان لینا  چاہیے کہ  چوں کہ بچہ دانی میں جال وغیرہ لگانے کے  لیے کسی غیر مرد یا عورت کے سامنے ستر کھولنا پڑے گا، جب کہ کسی عذرِ شدید کے بغیر عورت کے  لیے شوہر کے علاوہ کسی مرد یا عورت کے سامنے ستر کھولنا جائز نہیں ہے؛ اس لیے  بچہ دانی میں جال وغیرہ لگانا جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ جب دیگر ایسی عارضی مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنا ممکن ہے،  جس میں کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب لازم نہیں آتا ہے تو پھر ایسی مانعِ  حمل تدبیر اختیار کرنا جس میں کسی دوسرے شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم آتی ہے،  جائز نہیں ہوسکتا ہے۔

بہرحال اگر کوئی عورت  بچہ دانی میں جال وغیرہ لگالے اور جال لگانے سے حیض کے خون آنے کی مدت میں تبدیلی آجائے تو سابقہ عادت بدل جائے گی، اگر سابقہ عادت چھ دن تھی اور جالی لگوانے کے بعد سات ، آٹھ، نو یا دس دن خون آیا تو جتنے دن خون آیا اتنے ہی دن حیض کے شمار ہوں گے اور آئندہ کے  لیے عادت بھی تبدیل شمار ہوگی، لیکن اگر خون دس دن سے زیادہ آیا تو اس سے سابقہ عادت تبدیل نہیں ہوگی، بلکہ سابقہ عادت کے موافق ہی حیض کے مدت شمار کی جائے گی اور باقی کے دنوں میں آنے والا خون استحاضہ شمار ہوگا۔

بہتر ہوگا کہ ایسی صورت میں خون آنے اور پاکی کے دن متعینہ طور پر بتاکر سوال کیا جائے۔ 

عمدۃ القاری میں ہے:

"فإن الاختصاء في الاٰدمي حرام".

(عمدة القاري ۲۰؍۷۲)

حدیث شریف میں ہے:

"عن عائشة عن جذامة بنت وهب أخت عکاشة، قالت: حضرت رسول الله ﷺ … ثم سألوه عن "العزل"؟ فقال رسول الله ﷺ: ذلك الوأد الخفي". وزاد عبید الله في حدیثه عن المقرئ: ﴿وَاِذَا الْمَوْؤدَةُ سُئِلَتْ﴾".

(صحیح مسلم، باب جواز الغیلة، وهی وطی المرضع وکراهة العزل، النسخة الهندیة ۱/۴۶۶)

قال الملاعلي القاري:

"قیل: ذلك لایدل علی حرمة العزل، بل علی کراهته".

(مرقاة المفاتيح، کتاب النکاح، باب المباشرة، الفصل الأول، امدادیه ملتان ۶/۲۳۸)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويعزل عن الحرة) وكذا المكاتبة، نهر بحثاً، (بإذنها)، لكن في الخانية أنه يباح في زماننا؛ لفساده، قال الكمال: فليعتبر عذراً مسقطاً لإذنها، وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج، (وعن أمته بغير إذنها) بلا كراهة.
(قوله: قال الكمال) عبارته: وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها؛ لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطاً لإذنها. اهـ. فقد علم مما في الخانية أن منقول المذهب عدم الإباحة، وأن هذا تقييد من مشايخ المذهب؛ لتغير بعض الأحكام بتغير الزمان، وأقره في الفتح، وبه جزم القهستاني أيضاً حيث قال: وهذا إذا لم يخف على الولد السوء؛ لفساد الزمان، وإلا فيجوز بلا إذنها. اهـ. لكن قول الفتح: فليعتبر مثله إلخ يحتمل أن يريد بالمثل ذلك العذر، كقولهم: مثلك لايبخل. ويحتمل أنه أراد إلحاق مثل هذا العذر به كأن يكون في سفر بعيد، أو في دار الحرب فخاف على الولد، أو كانت الزوجة سيئة الخلق ويريد فراقها فخاف أن تحبل، وكذا ما يأتي في إسقاط الحمل عن ابن وهبان، فافهم".

(فتاوی شامی(3/ 175) ط: سعید)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 176):

"أخذ في النهر من هذا ومما قدمه الشارح عن الخانية والكمال: أنه يجوز لها سد فم رحمها كما تفعله النساء".

الفتاوى الهندية (1/ 39)

'' انتقال العادة يكون بمرة عند أبي يوسف، وعليه الفتوى. هكذا في الكافي.

فإن رأت بين طهرين تامين دماً لا على عادتها بالزيادة أو النقصان أو بالتقدم والتأخر أو بهما معاً انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقياً كان الدم أو حكمياً، هذا إذا لم يجاوز العشرة، فإن جاوزها فمعروفتها حيض وما رأت على غيرها استحاضة فلا تنتقل العادة، هكذا في محيط السرخسي''.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107200759

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں