بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بچیوں کا غیر شرعی لباس پہننا


سوال

کیا بچی کو غیر شرعی لباس پہننے کی اجازت دینا ٹھیک ہے ، میری بہن کی عمر11 سال ہے اور میں اسے غیر شرعی لباس (جیسے ٹائٹ ٹراؤزر، پینٹ وغیرہ) پہننے سے منع کرتا ہوں،  جبکہ میرے گھر والے کہتے ہیں کہ اس سے بچی کے دل میں احساس کمتری پیدا ہو جاتی ہے اور بڑی ہونے کہ بعد وہ اس قسم کے لباس ضرور پہنے گی، براۓ مہربانی رہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ لباس  کا کم ازکم درجہ یہ ہے کہ وہ ( لباس) ساتر ہو، یعنی جس حصے کا چھپانا واجب ہے وہ کھلا نہ رہے،لہٰذا    اتنا چست اور تنگ  لباس پہنناکہ اس سے مستورہ اعضاء کی بناوٹ اور حجم ظاہر  ہو،    ناجائز ہے اور اس حالت میں دوسروں کا اسے دیکھنابھی ممنوع ہے، لہذا صورت مسئولہ میں  سائل کو چاہیے کہ حکمت کے ساتھ اپنی  بہن کو  اس طرح کے لباس پہننے سے روکے اور گھر والوں کو بھی اللہ کے اس حکم کی  طرف متوجہ کرے  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله لا يصف ما تحته) بأن لا يرى منه لون البشرة احترازا عن الرقيق ونحو الزجاج (قوله ولا يضر التصاقه) أي بالألية مثلا، وقوله وتشكله من عطف المسبب على السبب. وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظا لا يرى منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئيا فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر. اهـ."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة،ج:1، ص:410۔ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408101461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں