بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بالوں پر کلر لگوانا اور کلر لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل کا حکم


سوال

کیا پالر سے بالوں کو شوقیہ کلر کروایا جاسکتا ہے؟ اس صورت میں غسل ہوجائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ خواتین کے لیے شوہر کی خاطر زینت اختیا کرنا پسندیدہ ہے، اور غیر محرموں کو دکھانے  یا دیگر خواتین کے سامنے فخر ومباہات کی غرض سے زینت اختیار کرنا جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ شرعی حدود میں رہنے میں دیگر ضرورت اور خوشی کے موقعوں میں پر زیب وزینت کرنا منع نہیں ہے۔

نیز  زینت کی غرض سے بالوں کو  رنگنا بھی جائز ہے، البتہ خالص سیاہ رنگ استعمال کرنا جائز نہیں ہے،  احادیثِ مبارکہ میں اس منع کیا گیا ہے، اور اسی طرح  اس نیت سے بال رنگنا کہ اس طرز کا آج کل فیشن ہے یا اس غرض سے کہ نا محرم مرد دیکھیں یا دیگرخواتین کے سامنے فخر کیا  جائے، جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں جائز زینت کے موقعوں  پر  خالص کالے رنگ کے علاوہ  کوئی بھی رنگ بالوں پر لگانا جائز ہے،بشرط یہ کہ  غیر اَقوام یا فاسق عورتوں کی مشابہت اور ان کے فیشن کے طرز پر بالوں کو  نہ رنگوا یا جائے۔

باقی جہاں تک کلر لگانے کے بعد غسل اور وضو کا مسئلہ ہے تو اگر  کلر ایسا ہے جس کی بالوں پر الگ سے کوئی تہہ نہیں جمتی، بلکہ وہ صرف بالوں کا رنگ تبدیل کرتا ہو تو  اس کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل ہوجائے گا، لیکن اگر کوئی کلر ایسا ہو جس کی تہہ بالوں پر جم جاتی ہو جو کہ مشاہدہ سے معلوم ہو سکتا ہے تو ایسے کلر کے لگانے سے  وضو اور غسل نہیں ہو گا، اور  اس لیے ایسا کلر لگانے کی اجازت نہیں بھی ہو گی۔

فتاوی شامی میں ہے:
"( والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء.  وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب" (6/ 373)

وفیہ ایضا:

''(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه، به يفتى 

(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللاً بالضرورة. قال في شرحها: ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن'' (1/ 154)۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں