بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بالغ اولاد کا صدقۂ فطر کا حکم


سوال

مفتی انعام الحق قاسمی صاحب کی کتاب روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا میں لکھا ہے بالغ اولاد کا صدقہ فطر والد کے ذمہ ہے بشرطیکہ اولاد فقیر ہو۔ اس کے بارے میں بتا دیں؟

جواب

 مفتی انعام الحق صاحب حفظہ اللہ  کی کتاب’’ روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا ‘‘ میں ہے کہ:

’’مال دار آدمی کے لیے صدقۂ   فطر     اپنی  طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے، اپنی نا بالغ اولاد کی طرف سے بھی، نابالغ  اولاد اگر مالدار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے ،اور اگر نہیں ہے تو اپنے مال سے ادا کرے۔بالغ اولاد اگر مالدار ہے تو ان کی طرف سے صدقۂ  فطر ادا کرنا  باپ پر واجب نہیں، ہاں باپ اگر از خود ادا کرلےبالغ اولاد کی اجازت سے  تو صدقۂ فطر ادا ہوجائے گا۔‘‘

(روزے کے مسائل کا انسائکلوپیڈیا، ص: 141، بيت العمار كراچی)

بالغ اولاد کا صدقۂ فطر والد کے ذمہ میں نہیں ہے، خواہ  بالغ اولاد مالدار ہو یا فقیر، ہاں اگر ادا کردے تو ادائیگی  ہو جائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يؤدي عن زوجته، ولا عن أولاده الكبار، وإن كانوا في عياله، ولو أدى عنهم أو عن زوجته بغير أمرهم أجزأهم استحسانا كذا في الهداية. وعليه الفتوى كذا في فتاوى قاضي خان."

(الفتاوى الهندية: كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر، ج:1 ص:212، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101582

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں