بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1445ھ 14 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بال جلے جانور کی قربانی کرنا


سوال

اگر قربانی کے جانور کا بال جل گیا تو اس کی قربانی ہو گی یانہیں؟

 

جواب

صورت  مسئولہ میں اگر مذکورہ جانور کے صرف بال جلے ہوں، اس کی کھال پر کسی قسم کا کوئی زخم نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی  جائز ہوگی۔

امداد الفتاوی میں ہے:

"جلے ہوئے بالوں والے جانور کی قربانی جائز ہے

 سوال (۲۲۶۵) : قدیم ۳/ ۵۹۷- اور اگر مویشی کی کھال جل جانے کی وجہ سے اس پر بال نہ جمے ہوں اور زخم وغیرہ نہ ہو اور تمام اعضاء صحیح وسالم ہوں تو ایسے مویشی کی قربانی درست ہے یانہیں ؟

الجواب: صریح جزئیہ تو ملا نہیں مگر دو جزیئے اور ملے ان سے ان کی قربانی کا بھی جواز معلوم ہوتا ہے۔ في العالمگیریۃ: وكذا (أی تجزی) المجزوزۃ، وھي التي جز صوفھا، کذا في فتاوی قاضي خان، وفیھا: تناثر شعر الأضحية في غير وقته یجوز إذا کان لھا نقي، أي مخ کذا في القنية۔ ج۲ ص ۴۔ (تتمہ خامسہ ۱۷۱)"

( كتاب الذبائح و الأضحية والصيد و العقيقة، ٨ / ٣٤٣، ط: مکتبہ زکریا دیوبند)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144407100085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں