بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

b4u کمپنی میں انویسٹمنٹ کا حکم


سوال

کمپنی b4u میں انویسٹ کرناجائزہے؟

جواب

مذکورہ کمپنی   (B4U Traders)  کرپٹو کرنسی میں بھی سرمایہ کاری کرتی ہے، جبکہ ’’بٹ کوائن‘‘ اور اس طرح کی دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں  جنہیں  ’’ کرپٹو کرنسی ‘‘  کہا جاتا ہے، ان  کا کوئی مادی وجود نہیں ہے، اس  لیے اسے ’’کرنسی‘‘ یا ’’مال‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ، لہٰذا اس کے ذریعہ لین دین کرنا، اس میں سرمایہ کاری کرنا اور اس کا کاروبار کرنا جائز نہیں ہے۔

نیز  چوں کہ b4u کمپنی میں سرمایہ کاری  مضاربت کے طریقے سے ہوتی ہے، اور مضاربت کے جائز ہونے کے لیے چند   شرائط ہیں:

۱)سرمایہ حوالہ کرتے وقت نفع  کے لیے کوئی ایک فیصد متعین کرنا ضروری ہےکہ جس کےتناسب سے   نفع رب المال اور مضارب کے درمیان  مشترک ہوگا ۔ جب کہ b4u  میں  نفع کا فیصد متعین نہیں کیا جاتا، بلکہ مختلف ہوتا رہتا ہے۔

۲) نقصان کی صورت میں اولًا نفع سے نقصان پورا ہونا اور پھر اصل سرمائے سے پورا کیا جانا شرط ہے، جب کہ b4u کمپنی میں  نقصان کا پہلو سرے سے رکھا ہی نہیں جاتا۔

۳)کمپنی کا کاروبار حلال ہو۔

۴)سرمایہ کاری کرنے والے  کا حصہ مضارب  (انویسٹمنٹ کمپنی )کو حاصل ہونے والی  آمدنی  کی شرح فیصد کے اعتبار سے طے کیا جائے، "سرمایہ"کی شرح فی صد کے اعتبار سے طے کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ اس میں نفع متعین ہوجاتاہے۔جب کہ   b4u کمپنی میں منافع سرمایہ دار کو اس کےسرمایہ کی شرح فیصد کے اعتبار سے ملتا ہے، نہ کہ  کمپنی کو ہونے والی آمدن کے اعتبار سے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں b4u کمپنی  سے مضاربت کا معاملہ کرنا مذکورہ بالا شرائط میں سے  متعدد شرطیں پوری نہ ہونے کی بنا  پر نا جائز ہے اور اس سے  حاصل ہونے والا نفع حلال نہیں ہے ۔

نیز مذکورہ کمپنی میں دوسرے لوگوں کو شامل کرنے کی وجہ سے جو کمیشن ملتا ہے (جسے ملٹی لیول مارکیٹنگ یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کہا جاتا ہے)، اس میں بھی شرعی طور پر کئی  مفاسد پائے جاتے ہیں۔مثلاً:

اس طریقہ کار  میں مصنوعات  بیچنا اصل مقصد نہیں ہوتا، بلکہ ممبر  سازی وغیرہ کے ذریعے  کمیشن در کمیشن کا  کاروبار چلانا  اصل مقصد ہوتا ہے جو  کہ جوئے کی ایک نئی شکل ہے۔  اس کی تفصیل یہ ہے کہ جیسے جوئے میں پیسے لگاکر  یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ اسے کچھ نہ ملے اور یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ اسے بہت سارے پیسے مل جائیں، اسی  طرح نیٹ ورک مارکیٹنگ میں  کام کرنے میں یہ امکان بھی ہے کہ کچھ نہ ملے  اور یہ امکان بھی ہے کہ بہت سے پوائنٹس مل جائیں۔

نیز شرعی طور پر دلال (ایجنٹ) کو اپنی دلالی کی جو اجرت (کمیشن) ملتی ہے وہ کسی اور کی محنت کے ساتھ مشروط نہیں ہوتی، لیکن مذکورہ طریقہ کار میں ایک ممبر کی اجرت دوسرے  ما تحت ممبران کی محنت پر مشروط ہوتی ہے جو کہ  شرعاً درست نہیں؛       لہذا b4u کمپنی میں موجود نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طریقہ کار کو  اختیار کرنا اور دوسروں کو اس میں شامل کراکے کمیشن وصول کرنا بھی ناجائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكون الربح بينهما شائعًا) فلو عين قدرًا فسدت."

(كتاب المضاربة، ج:5، ص:648، ط:ايج ايم سعيد)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «الحلال بين والحرام بين، وبينهما مشتبهات لايعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب»". متفق عليه."

(باب الكسب وطلب الحلال، ج:5، ص:1891، ط:دار الفكر.بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201897

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں