بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بی سی میں پہلے چار شرکاء کے لیے منتظم کو تحفۃ کپڑے کا جوڑا دینے کی شرط لگانا


سوال

 دس آدمی مل کر بچت کمیٹی (بی سی) ڈالتے ہیں۔بیس بیس ہزار فی کس، دو لاکھ ہر ماہ ان میں سے ہر ایک کو ملتے ہیں. بعض اوقات منتظم خود بھی اس کمیٹی میں شامل ہوتا ہے اور بعض اوقات خود شامل نہیں ہوتا۔ لیکن ایک شرط یہ ہے کہ پہلے چار شرکاء میں سے جو کمیٹی لے گا وہ منتظم کو کپڑے کا ایک جوڑا تحفتاً دے گا۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بی سی اور کمیٹی  کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے، گویا کمیٹی کے ممبران میں سے ہر ممبر ایک معین رقم قرض دیتا ہے اور اپنا نمبر آنے  پر قرض دی ہوئی رقم وصول کر لیتا ہے، اس لیے اگر بی سی (کمیٹی) میں تمام شرکاء برابر رقم جمع کرائیں، اور انہیں برابر رقم دی جائے ،ایسانہ ہوکہ جس کی کمیٹی نکلتی جائےوہ بقیہ اقساط سے بری الذمہ ہوتاجائے اور بی سی کے نمبر بولی لگا کر فروخت نہ کئے جائیں ، ہر شریک کو ہر وقت بطورِ قرض دی ہوئی اپنی رقم واپس لینے کے مطالبہ کا پورا حق ہو، اس پر جبر نہ ہو تو اس طرح کی بی سی (کمیٹی)  ڈالنا جائزہے۔

صورتِ مسئولہ میں   اگر بی سی میں مذکورہ تمام شرائط پائی جائیں تو اس طرح بی سی  ڈالنا جائز ہے،  لیکن اس میں یہ شرط لگانا  کہ: ”  پہلے چار شرکاء میں سے جو کمیٹی لے گا وہ منتظم کو کپڑے کا ایک جوڑا تحفتاً دے گا“ جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ  قرض پر مشروط نفع  کی صورت ہے، جو شرعاً سود ہونے کی وجہ سے جائز نہیں   ہے۔

باقی اگر منتظم  بھی بی سی میں  شریک ہو تو اس کے لیے کسی قسم کی اجرت لینا جائز نہیں ، اگر منتظم بی سی میں شریک نہ ہو  تو بی سی کے انتظامات وغیرہ کے عمل اور محنت کی وجہ سے  اس کو کوئی طے شدہ اجرت دینا جائز ہے، اور یہ اجرت تمام شرکاء دیں گے، صرف پہلے چار شرکاء پر اجرت کو لازم قرار دینا جائز نہیں ہے۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام.

قال ابن عابدين: (قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به."

(5/ 166، كتاب البيوع، باب القرض، مطلب ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام،ط: سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له) ؛ لأنه لا يعمل شيئا لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلا يستحق الأجر (كراهن استأجر الرهن من المرتهن) فإنه لا أجر له لنفعه بملكه.

(قوله فلا أجر له) أي لا المسمى ولا أجر المثل زيلعي؛ لأن الأجر يجب في الفاسدة إذا كان له نظير من الإجارة الجائزة وهذه لا نظير لها إتقاني، وظاهر كلام قاضي خان في الجامع أن العقد باطل؛ لأنه قال: لا ينعقد العقد تأمل. (قوله؛ لأنه لا يعمل إلخ) فإن قيل: عدم استحقاقه للأجر على فعل نفسه لا يستلزم عدمه بالنسبة إلى ما وقع لغيره.  فالجواب أنه عامل لنفسه فقط؛ لأنه الأصل وعمله لغيره مبني على أمر مخالف للقياس فاعتبر الأول، ولأنه ما من جزء يحمله إلا وهو شريك فيه فلا يتحقق تسليم المعقود عليه؛ لأنه يمنع تسليم العمل إلى غيره فلا أجر عناية وتبيين ملخصا."

  (6/ 60، کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ،  ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144406100119

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں