بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

ازواج مطہرات کی تعداد میں راجح قول اور قتیلہ نامی خاتون سے حضورؐ کے نکاح کی تحقیق


سوال

شمائل کبری (حصہ یازدہم ص:343) میں ہے، وہ خواتین جن کےساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عقد نکاح ہوا تھا،  مگر رخصتی کی  نوبت نہیں آئی ان کی تعداد حافظ دمیاطی کے حوالے سے 30 شمار کی ہے اور علامہ ابو صالح دمشقی کے حوالے سے 26 شمار کی ہے، کیا مندرجہ بالا روایت سند کے اعتبار سے درست ہے ؟ اگر درست ہے تو کیا اس کا سورۃ احزاب کی آیت نمبر 52 (لايحل لك النساء ۔۔۔ الآية)سے ٹکراؤ نہیں ہوتا ، مثلاً شمائل کبری  ص :345 نمبر شمار 21 پر قتیلہ نامی خاتون ، کہ آپ مرض وفات سے مشرف ہوگئے اس لیے رخصتی کی نوبت نہیں آئی، جب سورۃ احزاب میں نبی علیہ السلام کو مزید نکاح سے منع فرمایا گیا تو اس قتیلہ نامی خاتون سے نکاح کیسے ہوا؟

جواب

وہ خواتین جن کا آپ صلی علیہ وسلم سے عقد نکاح ہوا، لیکن  رخصتی کی نوبت نہیں آئی، ان کی تعداد میں اختلاف ہے، حافظ دمیاطی نے  ’’السیرۃ النبویہ‘‘  میں 30  کا قول نقل کیا ہے، لیکن اکثر اہل سیر و تاریخ نے اس قول کی تردید کی ہے، بلکہ اکثر اس پر متفق ہے کہ ایسی خواتین کی تعداد  صرف چار یا پانچ  ہے۔

قتیلہ نامی خاتون سے نکاح کے متعلق درست بات یہ ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں اس سے نکاح ہوا ہے۔

نکاحِ قتیلہ کے ثبوت سے  (لَایَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْ بَعْدُ ... الآیة) سے کوئی تعارض واقع نہیں ہوتا ، کیوں کہ مذکورہ آیت کے بارے میں ائمہ تفسیر کی دو رائے ہیں۔

(1) یہ آیت منسوخ ہے۔

(2) یہ آیت محکم ہے ، لیکن مذکورہ آیت میں "من بعد"سے اجناس اربعہ (1)وہ خواتین جن سے آپ مہر دےکر نکاح کریں، (2)جو خواتین آپ کی ملکیت میں آجائیں، (3)چچا زاد، پھوپھی زاد ، ماموں زاد، خالہ زاد جو ہجرت میں آپ کے ساتھ ہوں، (4)جو عورتیں اپنا آپ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کردیں) مراد ہیں۔

بہر دو  صورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مزید نکاح کی اجازت ثابت ہوتی ہے۔

زاد المعاد لابن القیم میں ہے:

"وأما من خطبها ولم يتزوجها ومن وهبت نفسها له ولم يتزوجها نحو أربع أو خمس، اقال بعضهم : هم ثلاثون إمرأة، أهل العلم وبسيرته و أحواله صلى الله عليه وسلم لايعرفون هذا بل ينكرونه."

(فصل فی ازواجہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج:1، ص:113، ط:مکتبۃ المنار الاسلامیۃ)

شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ میں ہے:

"وأخرج ابن عساكر وأبو نعيم بإسناد قوي عن ابن عباس، أنه صلى الله عليه وسلم تزوج قتيلة أخت الأشعث، ومات قبل أن يدخل بها.

قال الشامي: ومن الغريب ما رواه ابن سعد بسند ضعيف جدا عن عروة أنه صلى الله عليه وسلم لم يتزوجها ويحتمل أن مراده نفي الدخول وإلا فقد ورد من طرق كثيرة لا يمكن ردها أنه تزوجها والله أعلم."

(الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات وسراریہ المطہرات، صفیۃ ام المؤمنین، ج:4، ص:448، ط:دار الکتب العلمیہ)

البحر المحیط میں ہے:

"لا يحل لك النساء من بعد: الظاهر ‌أنها ‌محكمة، وهو قول أبي بن كعب وجماعة، منهم الحسن وابن سيرين، واختاره الطبري. ومن بعد المحذوف منه مختلف فيه، فقال أبي، وعكرمة، والضحاك: ومن بعد اللواتي أحللنا لك في قوله: إنا أحللنا لك أزواجك. فعلى هذا المعنى، لا تحل لك النساء من بعد النساء اللاتي نص عليهن أنهن يحللن لك من الأصناف الأربعة: لا أعرابية، ولا عربية، ولا كتابية، ولا أمة بنكاح."

(سورۃ الاحزاب، ج:8، ص:496، ط:دار الفکر بیروت)

زاد المسیر فی علم التفسیر میں ہے:

"واختلف علماء الناسخ والمنسوخ في هذه الآية على قولين:

أحدهما: أنها منسوخة بقوله تعالى: إِنَّا أَحْلَلْنا لَكَ أَزْواجَكَ، وهذا مروي عن عليٍّ، وابن عباس، وعائشة، وأم سلمة، وعلي بن الحسين، والضحاك.

 وقالت عائشة: ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلّم حتى أُحِلَّ له النساء، قال أبو سليمان الدّمشقي يعني نساء جميع القبائل من المهاجرات وغير المهاجرات.

والقول الثاني: أنها محكمة ثم فيها قولان: أحدهما: أن الله تعالى أثاب نساءه حين اخْتَرنه بأن قَصَره عليهنّ، فلم يُحِلَّ له غيرهنّ، ولم ينسخ هذا، قاله الحسن وابن سيرين وأبو أُمامة بن سهل وأبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث. والثاني: أنّ المراد بالنساء ها هنا: الكافرات، ولم يَجُز له أن يتزوَّج كافرة، قاله مجاهد وسعيد بن جبير وعكرمة وجابر بن زيد."

(سورۃ الاحزاب، فصل،آیت 52، ج:3، ص:478،477، ط: دار الکتاب العربی بیروت)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"ذكر غير واحد من العلماء -كابن عباس، ومجاهد، والضحاك، وقتادة، وابن زيد، وابن جرير، وغيرهم -أن هذه الآية ‌نزلت ‌مجازاة لأزواج النبي صلى الله عليه وسلم ورضا عنهن، على حسن صنيعهن في اختيارهن الله ورسوله والدار الآخرة، لما خيرهن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كما تقدم في الآية. فلما اخترن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان جزاؤهن أن الله قصره عليهن، وحرم عليه أن يتزوج بغيرهن، أو يستبدل بهن أزواجا غيرهن، ولو أعجبه حسنهن إلا الإماء والسراري فلا حجر عليه فيهن. ثم إنه تعالى رفع عنه الحجر في ذلك ونسخ حكم هذه الآية، وأباح له التزوج، ولكن لم يقع منه بعد ذلك تزوج لتكون المنة للرسول صلى الله عليه وسلم عليهن."

(سورۃ الاحزاب، آیت :52، ج:6، ص:447، ط:دار طیبۃ للنشر والتوزیع)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قال أبو بكر ظاهر الآية يفيد تحريم ‌سائر ‌النساء على النبي صلى الله عليه وسلم سوى من كن تحته وقت نزولها; وقد روى ابن جريج عن عطاء عن عبيد بن عمير عن عائشة قالت: ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى حل له النساء. قال أبو بكر: وهذا يوجب أن تكون الآية منسوخة، وليس في القرآن ما يوجب نسخها، فهي إذا منسوخة بالسنة; ويحتج به في جواز نسخ القرآن بالسنة."

(ومن سورۃ النور، فی احد الزوجین اللعان، ج:3، ص:482، ط:دار الکتب العلمیہ بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101067

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں