بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ازواجِ مطہرات کے نام خیرات کرنے کی ایک رسم کا حکم


سوال

تقریبا پورےگاؤں میں خواتین میں یہ رسم پائی جاتی ہے کہ کچھ کھانا یا کچھ میٹھا تیار کرتی ہیں، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی زوجہ کے نام پہ خیرات کرتی ہیں،  یہ کھانا کسی مرد کو نہیں دکھاتیں اور نہ کوئی مرد اسے کھا سکتا ہے چاہے وہ مرد چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو،  کیا یہ رسم جائز ہے؟

جواب

صدقہ و خیرات کرنے کے لیے کسی چیز کی تخصیص کرنا اور مخصوص کیفیت کے ساتھ دینا محض ایک رسم ہے، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے اور اس کا التزام کرنا بدعت ہے، لہذا اسے ترک کرنا لازم ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ کے نام خیرات کرنی ہو تو جو چیز بھی میسر ہو طریقہ خاص کیے بغیر اسے خیرات کردیا کریں، یہی شریعت کا حکم ہے۔

الاعتصام للشاطبي  میں ہے:

"وقوله في الحد: " تضاهي الشرعية " يعني أنها تشابه الطريقة الشرعية من غير أن تكون في الحقيقة كذلك، بل هي مضادة لها من أوجه متعددة:

منها: وضع الحدود كالناذر للصيام قائما لا يقعد ... ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة ... ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة."

(ج:1، ص:53، الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101726

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں