بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

اذان اور اقامت کے درمیان ایک مخصوص دعا کی فضیلت سے متعلق حدیث


سوال

مندرجہ ذیل حدیث کی اِسنادی حیثیت کی بابت دریافت کرنا ہےکہ آیا یہ حدیث مستند ہے یا نہیں؟

"اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا: جوبندہ اذان اور اقامت کے درمیان یہ دعا پڑھ لے (جو دس پندرہ منٹ کا وقفہ ہوتا ہےاس وقفہ میں )اَللهُمَّ اِنِّی اَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَةَ فِي الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ۔ اس کو اللہ چار انعام دیں گے:

(۱)اللہ تعالٰی اسے ایسی بیماری نہیں لگنے دے گا جس سے موت آ جائے،یعنی خطرناک بیماری سے محفوظ رہے گا۔

(۲)اللہ تعالٰی اس کو تنہائی کے گناہ سے بچائے گا۔

(۳)اللہ تعالٰی اس کو ظالموں سے دور رکھے گا۔

(۴)اللہ تعالٰی اس کو بغیر محنت کے آسان روزی عطا فرمائے گا۔"

جواب

صحیح احادیثِ  مبارکہ میں اذان اور اقامت کے درميان  دعا کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان  کی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی،  بعض  روایت  میں یہ اضافہ بھی  ہے کہ  جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین  کے  سامنے یہ فضیلت بیان فرمائی، تو صحابہ کرام نے دریافت فرمایا کہ: ہم اس وقت کیا دعا مانگیں؟ آپ علیہ الصلاة  و السلام  نے فرمایا:   اللہ تعالی سے اس وقت معافی اور عافیت مانگو۔

البتہ سوال میں مذکور روایت جس میں چار انعامات کا ذکر ہے  وہ کتب حدیث میں نہیں ملی۔

اس لیے اذان واقامت کے درمیان (اَللّٰهُمَّ  إِنِّی اَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَةَ فِي الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ)  پڑھنے کو بتانا  جائز ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ چار انعامات  بیان کرنا جائز نہیں۔

"عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الدعاء بين الأذان و الإقامة لايرد؛ فادعوا".

(أخرجه ابن خزيمة في صحيحه في  باب استحباب الدعاء بين الأذان والإقامة (1/ 251) برقم (425)،ط.  المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1424 هـ - 2003 م)

 ترجمہ:’’ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلي الله عليه وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا قبول ہوتی ہے پس اس وقت دعا کيا كرو۔‘‘

"عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الدعاء لايرد بين الأذان والإقامة»، قالوا: فماذا نقول يا رسول الله؟ قال: «سلوا الله العافية في الدنيا والآخرة»: «هذا حديث حسن» وقد زاد يحيى بن اليمان في هذا الحديث هذا الحرف، قالوا: فماذا نقول؟ قال: «سلوا الله العافية في الدنيا والآخرة»."

(أخرجه الترمذي في سننه في باب في العفو والعافية (5/ 576) برقم (3594)،ط. شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر، الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م)

 ترجمہ:’’ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ:  اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی تو صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم اس وقت کیا دعا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  کہ: اللہ سے معافی اور عافیت مانگو۔

مرعاة المفاتیح میں ہے:

"و قد ورد تعيين أدعية تقال حال الأذان و بعده، و هو ما بين الأذان و الإقامة، منها ما تقدم، و منها ما سيأتي. و قد عين صلى الله عليه وسلم ما يدعى به أيضاً لما قال: الدعاء بين الأذان و الإقامة لايرد، قالوا: فما نقول يا رسول الله؟ قال: سلوا الله العفو و العافية في الدنيا و الآخرة. قال ابن القيم: هو حديث صحيح."

(مرعاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح: باب فضل الأذان وإجابة المؤذن (2/ 377)،ط.إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، بنارس الهند،الطبعة: الثالثة - 1404 هـ، 1984 م)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201374

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں