بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اذان میں لا الہ الا اللہ کا جواب کیا دینا چاہیے؟


سوال

اذان کے آخر میں "لا إلٰه إلّا اللّٰه" پر مؤذن رک جاتے ہیں،  جو مقتدی اذان سنے وہ  "لا إلٰه إلّا اللّٰه"  کے جواب میں "لا إلٰه إلّا اللّٰه محمّد رسولاللّٰه" پورا پڑھے گا یا صرف "لا إلٰه إلّا اللّٰه" پڑھےگا؟

جواب

ازروئے شرع اذان کا جواب دینا زبان سے سنت (مستحب) ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو کلمات مؤذن کہتاہے جواب دینے والا وہی کلمات دہرائے، البتہ ’’حيّ على الصلاة‘‘  اور ’’حيّ على الفلاح‘‘ کے وقت ’’لاحول ولاقوة إلا باللّٰه‘‘  کہے۔ نیز اگر دونوں کلمات (’’حيّ على الصلاة‘‘ ،’’حيّ على الفلاح‘‘ اور  ’’لاحول ولاقوة إلا باللّٰه‘‘) کہے تب بھی درست ہے۔اور فجر کی اذان میں ’’الصلاة خیر من النوم‘‘ کے جواب میں ’’صدقت و بررت‘‘ کہے۔

بصورتِ مسئولہ کلماتِ اذان کے اخیر میں  "لا إلٰه إلّا اللّٰه" کے جواب میں یہی کلمات دہرانا ہے، ان کلمات پر اضافہ کرنا یعنی مزید "محمدرسول اللّٰه" پڑھنا درست نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومما يتصل بذلك إجابة المؤذن) يجب على السامعين عند الأذان الإجابة وهي أن يقول مثل ما قال المؤذن إلا في قوله: حي على الصلاة حي على الفلاح، فإنه يقول مكان حي على الصلاة: لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، ومكان قوله حي على الفلاح: ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن، كذا في محيط السرخسي. وهو الصحيح، كذا في فتاوى الغرائب. وكذا في قول المؤذن الصلاة خير من النوم لايقول السامع مثله ولكن يقول: صدقت وبررت، كذا في محيط."

(الفصل الثاني في كلمات الأذان،، ج:1، ص:57، ط: مكتبة رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144204200133

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں