بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

اذان کے باوجود سحری کھانے کی اجازت والی حدیث کا مطلب


سوال

ایک آدمی کو چائے کا نشہ ہے اور اگر نہ پیے تو طبیعت میں خرابی پیش آتی ہے  اگر سحری کا وقت ختم ہوتے ہی اذان شروع ہو جائے اور بندے نے چائے نہ پی ہو تو کیا وہ فوراً پی سکتا ہے؟ اس حواے سے شریعت میں کیا گنجائش ہے؟ سنا ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ جو تمہارے منہ میں ہو اسے نگل لیا کرو اگر سحر ختم ہو جائے.

جواب

 سحری کا وقت صبح صادق تک ہوتا ہے اور صبح صادق کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اس لیے  فجر کا وقت داخل ہوجانے کے بعد  کھانا پینا جائز نہیں۔  جیسا کہ قرآن مجید میں باری تعالی کا فرمان ہے:

﴿ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ ﴾ (البقرة:187)

ترجمہ:’’  کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید دھاگا یعنی صبح صادق  کالے دھاگے (رات کی تاریکی) سے واضح نہ ہوجائے، پھر روزہ مکمل کرو رات تک۔‘‘

فجر کا وقت چوں کہ  صبح صادق کے بعد ہوتا ہے، اور فجر کی اذان صبح صادق کے بعد دی جاتی ہے؛ لہذا   اذان شروع ہونے کے بعد روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز نہیں ہے، لهذا  اگر کسی نے اس دوران کچھ  کھا پی لیا تو اس کا  روزہ نہ ہوگا، بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی۔

باقی آپ کا یہ کہنا کہ ’’ حدیث میں آتا ہے کہ جو تمہارے منہ میں ہو اسے نگل لیا کرو اگر سحر ختم ہو جائے‘‘ تو واضح رہے کہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے، البتہ ایک حدیث مبارک میں اذان ہوجانے کے باوجود کھانے پینے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس بارے میں واضح رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رمضان المبارک میں دو اذانیں ہوا کرتی تھیں، پہلی اذان صبح صادق سے پہلی دی جاتی تھی  تاکہ سونے والے جاگ جائیں، اور روزہ رکھنے والے سحری کرلیں،اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا اجازت دینا اسی پہلی اذان کے بارے میں ہے  اور اس کے بعد وقت داخل ہونے پر دوبارہ اذان دی جاتی تھی، آج کل چونکہ صبح صادق ہوجانے کے بعد ہی اذان دی جاتی ہے اس لیے کسی صورت اذان تک کھانے پینے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

" (فصل) :وأما بيان وقت الأذان والإقامة فوقتهما ما هو وقت الصلوات المكتوبات، حتى لو أذن قبل دخول الوقت لا يجزئه ويعيده إذا دخل الوقت في الصلوات كلها في قول أبي حنيفة ومحمد. وقد قال أبو يوسف: أخيرا لا بأس بأن يؤذن للفجر في النصف الأخير من الليل، وهو قول الشافعي. (واحتجا) بما روى سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه - رضي الله عنه - أن بلالا كان يؤذن بليل، وفي رواية قال: «لا يغرنكم أذان بلال عن السحور فإنه يؤذن بليل» ؛ ولأن وقت الفجر مشتبه، وفي مراعاته بعض الحرج بخلاف سائر الصلوات. ولأبي حنيفة ومحمد ما روى شداد مولى عياض بن عامر أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال لبلال «لا تؤذن حتى يستبين لك الفجر هكذا» ، ومد يده عرضا؛ ولأن الأذان شرع للإعلام بدخول الوقت، والإعلام بالدخول قبل الدخول كذب، وكذا هو من باب الخيانة في الأمانة، والمؤذن مؤتمن على لسان رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، ولهذا لم يجز في سائر الصلوات؛ ولأن الأذان قبل الفجر يؤدي إلى الضرر بالناس؛ لأن ذلك وقت نومهم خصوصا في حق من تهجد في النصف الأول من الليل، فربما يلتبس الأمر عليهم، وذلك مكروه.

وروي أن الحسن البصري كان إذا سمع من يؤذن قبل طلوع الفجر قال: علوج فراغ لا يصلون إلا في الوقت، لو أدركهم عمر لأدبهم، وبلال - رضي الله عنه - ما كان يؤذن بليل لصلاة الفجر بل لمعان أخر، لما روي عن ابن مسعود - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «لا يمنعنكم من السحور أذان بلال فإنه يؤذن بليل ليوقظ نائمكم ويرد قائمكم ويتسحر صائمكم، فعليكم بأذان ابن أم مكتوم» .

وقد كانت الصحابة - رضي الله عنهم - فرقتين: فرقة يتهجدون في النصف الأول من الليل، وفرقة في النصف الأخير، وكان الفاصل أذان بلال، والدليل على أن أذان بلال كان لهذه المعاني لا لصلاة الفجر أن ابن أم مكتوم كان يعيده ثانيا بعد طلوع الفجر، وما ذكر من المعنى غير سديد؛ لأن الفجر الصادق المستطير في الأفق مستبين لا اشتباه فيه."

(كتاب الصلاة، فصل :بيان وقت الأذان والإقامة، 1/ 154 ، 155، ط: سعيد)

فیض الباری علی صحیح البخاری میں ہے:

"والخامس: أن الأذان الأول كان للفجر، أو لمعنى آخر؟ فذهب الشافعية أنه كان للوقت كالثاني على طريق الإعلام بعد الإعلام، وادعى الحنفية أنه كان ‌للتسحير لا للوقت. وتمسك له الطحاوي بما روي عن ابن مسعود رضي الله عنه، وهو عند مسلم أيضا: «لا يمنعن أحدكم أذان بلال، أو قال: نداء بلال من سحوره، فإنه كان يؤذن ليرجع قائمكم، ويوقظ نائمكم» … إلخ فتبين منه أن أذان بلال إنما كان لأجل أن يرجع قائم الليل عن صلاته ويتسحر، ويستيقظ النائم فيتسحر، فهذا تصريح بكونه ‌للتسحير لا للفجر. وأما للفجر، فكان ينادي به ابن أم مكتوم، ولذا كان ينتظر الفجر ويتوخاه."

(كتاب الأذان، باب أذان الأعمى إذا كان له من يخبره، 2/ 219، ط: دارالكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101177

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں