بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا اذان سن کر نماز کے لیے نہ جانا شرک ہے؟


سوال

اذان سن کر نماز کے لیے نہ جانا شرک ہے یا نہیں؟

جواب

ہر مسلمان پر دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا فرض ہے، باجماعت نماز پڑھنا سنت مؤکدہ قریب الی الواجب ہے، مسجد میں نماز پڑھنے کا اجر پانچ سو گنا تک ثواب ملتا ہے، لہذا مسجد  میں باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے،بہتر یہ ہے کہ اذان سن کر ہی نماز کی تیاری شروع کردینی چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص اذان سن کر فورا تیاری نہیں کرتا، بعد میں جماعت میں شریک ہوتا ہے، یا جماعت سے نماز نہیں پڑھتاتو یہ شرک نہیں، البتہ عذر كے بغير شريك نہ ہونے کی صورت میں گناہ گار ہوگا۔

مشکات المصابیح میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "صلاة ‌الرجل ‌في ‌بيته ‌بصلاة ‌وصلاته ‌في ‌مسجد ‌القبائل ‌بخمس ‌وعشرين صلاة وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخسمائة صلاة وصلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة وصلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة وصلاته في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة."

(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الصلوٰۃ،باب المساجدومواضع الصلوٰۃ،الفصل الثالث،ج:۱،ص:۲۳۴،ط:المکتب الإسلامی)

ترجمہ:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کہ آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک ہی  نماز کے برابر اور محلہ کی مسجد میں اس پچیس نمازوں کے برابر اور اس مسجد میں جہاں جمع ہوتا ہے ( جامع مسجدمیں) اس کی نماز پانچ سو نمازوں کے برابر اور مسجد ِ اقصیٰ ( یعنی بیت المقدس میں ) اور میری مسجد ( مسجد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ) اس کی نماز پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجدِ حرام میں اس کی نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔‘‘

(مظاہر حق جدید،ج:۱،ص:۵۰۸،ط:دارالاشاعت کراچی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط ... (و قيل واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا وبه جزم في التحفة وغيرها. قال في البحر: وهو الراجح عند أهل المذهب (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج)

(قوله من غير حرج) قيد لكونها سنة مؤكدة أو واجبة، فبالحرج يرتفع الإثم ويرخص في تركها ولكنه يفوته الأفضل بدليل «أنه عليه الصلاة والسلام قال لابن أم مكتوم الأعمى لما استأذنه في الصلاة في بيته: ما أجد لك رخصة» قال في الفتح: أي تحصل لك فضيلة الجماعة من غير حضورها لا الإيجاب على الأعمى، «لأنه - عليه الصلاة والسلام - رخص لعتبان بن مالك في تركها» اهـ لكن في نور الإيضاح: وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها وكانت نيته حضورها لولا العذر يحصل له ثوابها اهـ والظاهر أن المراد به العذر المانع كالمرض والشيخوخة والفلج، بخلاف نحو المطر والطين والبرد والعمى تأمل."

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج:1، ص: 554، ط: سعید)

تفسير الألوسي روح المعاني (الألوسي، شهاب الدين) میں ہے:

"والشرك ‌يكون ‌بمعنى ‌اعتقاد أن ‌لله تعالى شأنه شريكا إما في الألوهية أو في الربوبية".

(‌‌سورة النّساء،ج:3، ص:50، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

حجة الله البالغة (ولي الله الدهلوي) میں ہے:

"‌حقيقة ‌الشرك أن ‌يعتقد ‌إنسان في بعض المعظمين من الناس أن الآثار العجيبة الصادرة منه إنما صدرت لكونه متصفا بصفة من صفات الكمال مما لم يعهد في جنس الإنسان، بل يختص بالواجب جل مجده لا يوجد في غيره إلا أن يخلع هو خلعة الألوهية على غيره، أو يغني غيره في ذاته".

(‌‌باب أقسام الشرك، ج:1، ص:119، ط:دار الجيل، بيروت لبنان)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144507101381

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں