بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ایام خاص میں وضو استنجا کرنا اور رانوں کے درمیان انزال کرنا


سوال

کیا حائضہ صفائی کے لیے وضو(استنجا) کر سکتی ہے ؟  اگر شوہر دوران حیض بیوی کی  رانوں کے درمیان میں انزال کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

حائضہ عورت کے لیے جائز ہے کہ  وہ صفائی کی نیت سے استنجا کرے، اس میں کوئی حرج نہیں،  باقی وضو کی مشروعیت پاکی حاصل کرنے کے لیے ہے اور حائضہ پاکی حاصل نہیں کر سکتی،  اس لیے اگر وہ صفائی کی نیت سے ہاتھ منہ دھوتی ہے تو اس کو وضو کا نام نہ دیا جائے، ہاتھ منہ دھویا جا سکتا ہے۔

ماہواری کے ایام میں بیوی کی ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصہ سے بغیر حائل کے نفع اٹھانا (مثلًا بلا حائل دیکھنا یا چھونا وغیرہ)  شوہر کے لیے شرعاً ممنوع قرار دیاگیاہے، البتہ اس حصہ کے علاوہ باقی تمام بدن سے فائدہ اٹھانے کی شرعاً اجازت ہے، نیز اگر ناف سے گھٹنوں کے درمیان اتنا موٹا کپڑا ہو کہ دونوں کو ایک دوسرے کے جسم کی حرارت محسوس نہ ہو تو شرم گاہ میں دخول کیے بغیر رانوں کے درمیان تسکین حاصل کرنے کی اجازت ہوگی،  لیکن جس شخص کو اپنے اوپر قابو  نہ ہو، اسے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، بلا حائل رانوں کے درمیان انزال کرنا درست نہ ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 292):

"(وقربان ما تحت إزار) يعني ما بين سرة وركبة ولو بلا شهوة، وحل ما عداه مطلقًا. وهل يحل النظر ومباشرتها له؟ فيه تردد.

(قوله: وقربان ما تحت إزار) من إضافة المصدر إلى مفعوله، والتقدير: ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت إزارها، كما في البحر.

(قوله: يعني ما بين سرة وركبة) فيجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها والركبة وما تحتها ولو بلا حائل، وكذا بما بينهما بحائل بغير الوطء و لو تلطخ دمًا."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209202343

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں