بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

ایام حیض (دس دن) کے بعد ہم بستری کرنا اگرچہ خون کے قطرے نظر آئیں


سوال

ماہواری اگر دس روز کے بعد بھی ختم نہ ہو، بلکہ ہلکے ہلکے سے داغ لگ جاتے ہوں تو کیا ہم بستری کر سکتے ہیں؟

جواب

عورت کے ماہواری کا خون رک جانے کے بعد ہم بستری کرنے کے حکم میں تفصیل  یہ ہے کہ اگر خون اپنی پوری مدت یعنی دس دن  پورے ہونے کے بعد رکا ہو تو خون منقطع ہوتے ہی   غسل سے قبل  عورت  سے ہم بستری کرنا درست ہے، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے بعد ہم بستری کرے۔ اور اگر دس دن سے پہلے ماہواری ختم ہوگئی، مثلاً: چھ، سات روز میں اور عورت کی عادت بھی چھ یا سات روز کی تھی تو خون کے موقوف ہوتے ہی  ہم بستری درست نہیں، بلکہ حیض ختم ہونے کے بعد جب عورت غسل کرلے یا ایک نماز کا وقت گزر جائے (جس میں غسل کرکے کپڑے پہن کر نماز شروع کرسکے)  اس کے بعد ہم بستری کرنا درست ہو گی۔ اور اگر عادت کے ایام سے پہلے ہی خون بند ہوگیا ہو اس صورت میں عادت کے ایام مکمل ہونے سے پہلے ہم بستری جائز نہیں؛ کیوں کہ ممکن ہے کہ وقتی طور پر خون بند ہوا ہو اور دوبارہ لوٹ کر آجائے۔

مذکورہ صورت میں اگر عورت کے ماہواری کے ایام کی عادت دس دن کی تھی اور عورت کو دس دن کے بعد بھی خون کے دھبے نظر آتے ہیں تو یہ دس دن کے بعد والے دھبے حیض نہیں ہیں، بلکہ استحاضہ کا خون ہے اور استحاضہ کا حکم یہ ہے کہ عورت ہر نماز کے وقت کے لیے وضو کرے گی اور شوہر کے لیے اس سے ہم بستری کرنا بھی جائز ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 294):

"(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوبا بل ندبا. (وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه  (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمتها."

فتاوی شامی میں ہے:

"أماالمعتادة فما زاد علی عادتها وتجاوز العشرة في الحیض والأربعین في النفاس یکون استحاضةً". (۱؍۴۱۳-۴۱۴)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

’’(وَدَمُ اسْتِحَاضَةٍ) حُكْمُهُ (كَرُعَافٍ دَائِمٍ) وَقْتًا كَامِلًا (لَا يَمْنَعُ صَوْمًا وَصَلَاةً) وَلَوْ نَفْلًا (وَجِمَاعًا)؛ لِحَدِيثِ: «تَوَضَّئِي وَصَلِّي وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ»‘‘.

و في الشامية:

’’(قَوْلُهُ: لَا يَمْنَعُ صَوْمًا إلَخْ) أَيْ وَلَا قِرَاءَةً وَمَسَّ مُصْحَفٍ وَدُخُولَ مَسْجِدٍ، وَكَذَا لَا تُمْنَعُ عَنْ الطَّوَافِ إذَا أَمِنَتْ مِنْ اللَّوْثِ، قُهُسْتَانِيٌّ عَنْ الْخِزَانَةِ ط‘‘. (١/ ٢٩٨)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201100

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں